حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل آئی سی یو میں ہنگامہ آرائی پر 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایم ٹی آئی۔ایچ ایم سی) کے میڈیکل آئی سی یو میں ہنگامہ آرائی، طبی عملے سے مبینہ بدسلوکی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے پر اسپتال انتظامیہ کی درخواست پر ایف آئی آر درج کر لی گئی، جبکہ نامزد افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کی جانب سے پولیس حکام کو دی گئی۔ درخواست کے مطابق 21 ستمبر 2026 کو تقریباً دوپہر 2 بج کر 40 منٹ پر میڈیکل آئی سی یو میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، جہاں زیر علاج مریض کے تیمارداروں اور دیگر افراد نے مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود طبی عملے سے بدسلوکی کی اور آئی سی یو کے سامان کو نقصان پہنچایا۔مذکورہ واقعے میں سات افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں داود ولد عمر سنی، سبز علی ولد حسن ولی، غلام محمد ولد ولی محمد، یونس خان ولد سبز علی، نجیب ولد سائلان، عمر سنی ولد حسن ولی اور رحمت اللہ ولد حسن ولی شامل ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق متاثرہ مریض 14 سالہ عباس تھا جسے نیورولوجی وارڈ سے میڈیکل آئی سی یو منتقل کیا گیا تھا، جبکہ اس کی عارضی تشخیص میننجو اینسیفلائٹس درج تھی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے دوران نرسنگ ڈیسک، حفاظتی شیشوں اور دیگر سرکاری سامان کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ نقصان کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 10 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ جب اس حوالے سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، تمام نامزد ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں، جبکہ مریضوں کو علاج کی سہولیات معمول کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔