روشم خان کیس میں جلد بڑی پیشرفت کا امکان، والد نے اشارہ دے دیا

منگھوپیر میں گھر کے اندر ڈکیتوں کی فائرنگ سے جاں بحق نوجوان کے قاتلوں کی گرفتاری کیلیے 15ویں روز بھی دھرنا جاری


منور خان September 23, 2026

منگھوپیر گرین سٹی میں 15 روز قبل قتل ہونے والے نوجوان روشم خان کے والد نے معاملات طے ہونے اور دھرنا ختم کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے کا اختیار بڑوں کے ہاتھ میں دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق منگھوپیر گرین سٹی میں 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب گھر کے اندر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان کے قتل پر ورثا اور علاقہ مکینوں کی جانب سے دیئے جانے والا احتجاجی دھرنا پندرہویں روز بھی جاری رہا۔

مقتول کے ورثا اور علاقہ مکین رواں ماہ 8 ستمبر سے نوجوان کے قتل کے خلاف منگھوپیر تھانے کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں، نوجوان روشم کے قتل کو 15 روز گزر گئے اس کے باوجود پولیس تاحال ڈاکوؤں کا سراغ نہیں لگا سکی۔

مقتول نوجوان کے والد روئیداد خان کا کہنا ہے کہ وہ 15 دن سے صبر کیے بیٹھے ہیں اور امید ہے کہ معاملہ جلد حل ہوجائیگا، میرا کام یہاں دھرنے میں بیٹھنا ہے اور فیصلے کا اختیار بڑوں کو دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری جدوجہد تمام والدین کے لیے ، نوجوان بیٹے کی موت کا لمحہ قیامت سے کم نہیں تھا ، چاہتا ہوں کوئی دوسرا باپ اس قیامت سے نہ گزرے ، میرا بیٹا تو جا چکا ہے لیکن اس درد ناک صورتحال کا سامنا دوبارہ کبھی کسی والد کے ساتھ نہیں ہونے دونگا۔

ان کا کہنا تھا کہ چاہتا ہوں جو اذیت ناک لمحہ روشم کی ماں نے دیکھا وہ کوئی اور ماں نہ دیکھے ،  دھرنے میں لوگ شہید کی خاطر اور ظلم کے خلاف آتے ہیں، میرے لخت جگر روشم کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا ہے اس نے تو ابھی کچھ دیکھا ہی نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ روشم کی ماں ، بہنوں اور میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، بیٹے روشم کی تدفین کے بعد بطور باپ میرا اصل امتحان اور آزمائش شروع ہوگی ، میری آئی جی سندھ سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ قاتل کو گرفتار کر کے سامنے لایا جائے۔

منگھوپیر تھانے کے سامنے نوجوان روشم کو قتل کرنے کے خلاف جاری دھرنے میں شرکا کی آمد کا بھی سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس موقع پر شرکا کی جانب سے خطاب میں واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا گیا۔