پنجاب کے ایک گاؤں میں مکئی کے کھیت پر شبنم کے قطرے یوں ٹھہرے ہوئے تھے جیسے رات نے جاتے جاتے فصل پر اپنی آخری نشانی رکھ دی ہو اور ابھی سورج پوری طرح نکلا بھی نہ تھا کہ ایک کسان اپنی پرانی موٹر سائیکل پر بیٹھا منڈی جا رہا تھا، اس کے پیچھے مکئی کے دانوں کی بوری لدی ہوئی تھی۔ اس سے ملنے والی رقم سے اس نے بچوں کی فیس، کچھ سودا سلف اور کچھ خریداری کرنی تھی، لیکن منڈی میں آڑھتی کہہ رہا تھا کہ ایک تازہ رپورٹ میں مکئی کے بارے میں ایک تازہ انکشاف کیا گیا ہے جس کے مطابق عالمی منڈی میں ممکنہ قیمت کے مقابلے میں تقریباً 15 فی صد کم پر پاکستانی مکئی فروخت ہو رہی ہے۔ اس میں کسان کی محنت میں کمی نہیں ہو رہی تھی۔ زمین کی زرخیزی میں کمی کا مسئلہ نہیں تھا۔ بس سرکار نے برآمدی نظام کے تحت اپنا کام ادھورا چھوڑا تھا۔ اس وجہ سے کسان کو بھی اس کی پوری قیمت نہیں مل رہی تھی۔ مکئی جب کھیت سے اترتی ہے تو اس کی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اسے صحیح وقت پر خشک کرنا، دانے کو صاف کرنا، ٹوٹے ہوئے اور خراب دانوں کو الگ کرنا، محفوظ گودام میں رکھنا، مناسب گریڈ تک اور عالمی معیار کے مطابق پیکنگ کرکے ہی عالمی خریداروں کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ ہم اپنی فصل کو پیداوار سمجھتے ہیں اور دنیا اسے ’’ویلیو چین‘‘ قرار دے کر کسی بھی کوتاہی کی بنا پر اس کی قیمت گھٹا دیتی ہے۔ اس میں زمیندار اور کسان کا کیا قصور، یہ تو حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی معیار دیکھتی ہے۔ نمی ہو تو قیمت گھٹا دیتی ہے، وہ صفائی دیکھتی ہے۔فرض کریں ایک ٹن مکئی کی ممکنہ قیمت 100 ڈالر ہے اور کسی قسم کی خامی کے باعث 85 ڈالر قیمت وصول ہوئی تو 15 ڈالر کا نقصان بظاہر معمولی نقصان نظر آتا ہے لیکن یہ کروڑوں ڈالر کے زرمبادلہ کا نقصان شمار کریں گے اور اس نقصان کا آخری بوجھ صرف اور صرف کسان پر پڑتا ہے، حالانکہ غلطی کہیں اور ہوتی ہے لیکن سزا کسان کو ملتی ہے۔ کسان کا کہاں قصور ہوتا ہے، حکومت کہتی ہے مکئی کی پیداوار بڑھاؤ، کسان نے پیداوار بڑھا دی اور پھر جب عالمی خریدار کہتا ہے معیار کہاں ہے، تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ زرعی پالیسی میں بنیادی تبدیلی پیدا کرنا ہوگی، اگر یہ دیکھنا ہے کہ مکئی کی کل پیداوار کتنی ہوئی ہے تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فی ٹن کتنی عالمی قدر حاصل ہوئی ہے۔ اس بات کو ٹھیک کرنا لازمی ہے۔ کاشتکار کا کام صرف پیداوار حاصل کرنا نہیں، عالمی منڈی بھیجنے سے پہلے پہلے عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا یہ حکومت کا کام ہے تاکہ فی ٹن کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کی جا سکے اور یہی نہیں بلکہ معیاری مکئی فروخت کرکے اس کا اصل فائدہ کسان تک پہنچنا ضروری ہے۔ مکئی سے کئی اشیا بنائی جاتی ہیں۔اگر کسان کو جدید فزیبلٹی، معیاری اسٹورج اور دیگر جدید ٹیکنالوجی مہیا کر دی جائے تو اسے بھی معلوم ہوگا کہ مجھے براہ راست عالمی مارکیٹ سے جوڑ دیا گیا ہے اس نے بھی عالمی معیار کی مکئی پیدا کرنی ہے۔ پھر اس کی مصنوعات کی تیاری کے لیے کارخانے داروں کو ہر طرح کی سہولیات مہیا کر دے تو یہی مکئی جو پہلے کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ لے کر آتی تھی اب باآسانی اربوں ڈالر کھینچ کر لے آئے گی۔اب آپ ذرا غور فرمائیں، ہمارے ملک کو ہر سال ڈالر کی تلاش میں عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے پر جانا پڑتا ہے۔ جہاں اس کی طرح طرح کی شرائط اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر ہماری محکمہ زراعت، حکومت، زرعی ماہرین کسان، تاجر، کارخانے دار سب مل کر کوشش کریں تو ہم زمین سے مکئی کی صورت میں ڈالر نکال سکتے ہیں اور اربوں ڈالر باآسانی کما سکتے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم جو کچھ برآمد کرتے ہیں اس کی نہایت ہی کم ترین قیمت وصول کرتے ہیں۔ اب جس طرح تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مکئی کی قیمت 15 فی صد کم لگی ہے، اس طرح کم قیمت پر فروخت ہونا، اس مسئلے کی ایک مثال ہے جس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے۔ یہ 15 فی صد کی کمی بیسیوں کروڑ ڈالر پر محیط ہے۔ اب حکومت کو کسان کے لیے کھیت سے بندرگاہ تک درمیان میں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں ہر قدم پر پہلے کی طرح قیمت ہی کم نہ ہو بلکہ ہر قدم پر قیمت میں اضافہ ہو۔ پھر ایک وقت آ سکتا ہے جب کسان مکئی کے دانے ہاتھ میں لے کر فخریہ کہہ سکتا ہے کہ یہ مکئی نہیں بلکہ یہ ڈالر ہیں۔ دنیا کے صنعتی ترقی یافتہ ممالک ہوں یا بھاری زرعی مصنوعات یا پیداوار برآمد کرنے والے ممالک کی خوش حالی، ڈالر کی فراوانی کا راز یہی ہے کہ انھوں نے اپنی زرعی پیداوار کو معیار ٹیکنالوجی مصنوعات کے ساتھ جوڑ لیا ہے، ہمیں بھی مکئی کی فصل کو ڈالر کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔