امن کیوں نہیں؟

انسان نے خاندان بنائے، قبیلے بنائے، شہر بسائے ،ریاستیں قائم کیں اور پھر ان ریاستوں کے درمیان سرحدیں کھینچ دیں۔


زاہدہ حنا September 23, 2026

دنیا میں شاید امن سے زیادہ خوبصورت لفظ کوئی نہیں ،لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان نے ہزاروں برس کی تہذیبی ترقی کے باوجود امن کو اپنی مستقل حقیقت نہیں بنایا۔ ہم نے پہیے سے لے کر مصنوعی ذہانت تک کا سفر طے کرلیا، سمندر کی تہہ اور خلا کی وسعتوں تک رسائی حاصل کرلی، بیماریوں کے علاج دریافت کیے ،فاصلے مٹا دیے، مگر ایک دوسرے سے لڑنے کا ہنر آج بھی نہیں بھولے۔

ہر سال 21 ستمبر کو ہم کچھ دیر کے لیے رک کر دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ آج امن کا عالمی دن ہے۔ اقوام متحدہ کا پیغام آتا ہے امن کے حق میں بیانات جاری ہوتے ہیں، کانفرنسیں ہوتی ہیں، تقریریں کی جاتی ہیں اور جنگ سے تباہ ہونے والی انسانی زندگیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن پھر 21 ستمبر گزر جاتا ہے۔

اگلے دن دنیا پھر وہی دنیا ہوتی ہے۔کہیں میزائل داغے جا رہے ہوتے ہیں ،کہیں بم گر رہے ہوتے ہیں ،کہیں سرحدوں پر فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہوتی ہیں، کہیں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو رہے ہوتے ہیں اور کہیں طاقت وسائل اور جغرافیے کے مفادات انسانی جانوں سے زیادہ اہم دکھائی دیتے ہیں۔تب سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ جنگ کیوں ہوتی ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ انسان امن کیوں قائم نہیں کر پاتا۔شاید اس سوال کا جواب انسان کی تاریخ میں چھپا ہے۔جب انسان نے پہلی مرتبہ کسی زمین پر اپنا حق جتایا ہوگا، شاید وہیں سے ملکیت کا تصور پیدا ہوا ہوگا۔ پھر ملکیت کے ساتھ حدود آئیں، حدود کے ساتھ حفاظت کا احساس اور حفاظت کے ساتھ خوف۔

انسان نے خاندان بنائے، قبیلے بنائے، شہر بسائے ،ریاستیں قائم کیں اور پھر ان ریاستوں کے درمیان سرحدیں کھینچ دیں۔ ہر سرحد کے ایک طرف ہم تھے اور دوسری طرف وہ۔ مسئلہ شاید یہیں سے شروع ہوتا ہے۔انسان صرف اپنے وجود کی حفاظت نہیں چاہتا، وہ اپنی طاقت بھی بڑھانا چاہتا ہے۔ اسے صرف اتنا نہیں چاہیے، جتنا زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس دوسرے سے زیادہ ہو۔ زیادہ زمین ،زیادہ دولت، زیادہ وسائل ،زیادہ اختیار ،زیادہ اثر و رسوخ ضرورت ایک مقام پر ختم ہوجاتی ہے مگر خواہش وہاں نہیں رکتی۔

ایک خاندان کے لیے چند ایکڑ زمین کافی ہوسکتی ہے لیکن وہ مزید زمین چاہتا ہے۔ ایک ریاست اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کرسکتی ہے مگر پھر اسے دوسرے ملک کے وسائل منڈیوں بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کی اہمیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لالچ کو ہم قومی مفاد، توکبھی قومی سلامتی ،کبھی اقتصادی ضرورت، کبھی تاریخی حق اور کبھی تہذیبی ذمے داری کا نام دیتے ہیں۔

جنگ کی کہانی ،صرف لالچ کی کہانی نہیں۔ اس میں خوف کا کردار شاید اس سے کم نہیں۔

ایک ملک کو خوف ہوتا ہے کہ دوسرا ملک طاقتور ہوگیا، تو اس کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ دوسرا ملک پہلے کی فوجی طاقت دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتا ہے، وہ اپنی فوج بڑھاتا ہے۔ پہلا ملک اس اضافے کو خطرہ سمجھ کر مزید ہتھیار جمع کرتا ہے، یوں دونوں اپنی حفاظت کے لیے وہ کچھ کرتے ہیں جو دوسرے کو غیر محفوظ محسوس کراتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امن کی جگہ عدم اعتماد لے لیتا ہے۔ ہر فریق کہتا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا ،وہ صرف اپنی حفاظت چاہتا ہے۔ جب ہر طرف حفاظت کا مطلب زیادہ ہتھیار زیادہ طاقت اور زیادہ اثر و رسوخ ہو تو اس سب سے دنیا ایک ایسے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے جہاں ہر وقت خوف کا ماحول رہتا ہے اور اسے کم کرنے یا ختم کرنے کے لیے جنگ ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔

تاریخ میں سلطنتوں کا عروج و زوال اسی انسانی کشمکش کی بے شمار مثالیں پیش کرتا ہے۔ رومی سلطنت ہو، منگول سلطنت ہو یا یورپی استعمار طاقت صرف اقتدار کا نام نہیں، اس کے ساتھ زمین ،تجارت، خام مال، محنت اور وسائل کے مفادات بھی وابستہ رہے ہیں۔برصغیر کی نوآبادیاتی تاریخ ہو یا افریقہ کی تقسیم یہ سب صرف نقشوں پر لکیریں کھینچنے کے واقعات نہیں تھے۔ ان کے پیچھے معاشی اور سیاسی مفادات بھی موجود تھے۔دنیا بدل چکی ہے مگر طاقت اور وسائل کی سیاست ختم نہیں ہوئی۔ آج تیل، گیس ،پانی، لیتھیم ،کوبالٹ، یورینیم ،معدنیات اور اہم تجارتی راستے عالمی سیاست میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ بعض تنازعات میں زمین اہم ہوتی ہے بعض میں وسائل بعض میں جغرافیائی محل وقوع اور بعض میں سیاسی اثر و رسوخ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے ہر تنازعے کو صرف ایک وجہ سے بیان نہیں کیا جاسکتا، اکثر جنگوں کے پیچھے تاریخ، سیاست، شناخت، سلامتی، معیشت اور داخلی عوامل ایک دوسرے میں گندھے ہوتے ہیں۔لیکن اس پیچیدگی کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ آخر انسان کو کتنا چاہیے؟ ہم جس زمین کے لیے لڑتے ہیں وہ زمین آخر کتنی ہے ؟

یہی زمین پہاڑ بھی رکھتی ہے ،دریا بھی، سمندر بھی، جنگلات بھی اور زرخیز میدان بھی۔ انسان نے اپنی عقل اور سائنس سے پیداوار کے ایسے طریقے دریافت کرلیے ہیں جن کا چند صدیاں پہلے تصور بھی محال تھا۔ پھر بھی دنیا میں بھوک اور غربت ہے۔پھر بھی کروڑوں انسان بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔مسئلہ شاید وسائل کی کمی سے زیادہ اس کی تقسیم اور اس کے استعمال کا ہے۔ جنگوں پر خرچ ہونے والی بے شمار دولت اگر تعلیم صحت خوراک پانی اور روزگار پر صرف ہو تو کتنی زندگیاں بدل سکتی ہیں،لیکن یہاں انسان کی ایک اور کمزوری سامنے آتی ہے۔ضرورت اور حرص کے درمیان جو لکیر ہے ہم اکثر اسے مٹا دیتے ہیں۔

انسان اپنی خوشی کو بھی دوسروں سے موازنہ کرکے دیکھنے لگتا ہے۔ میرے پاس کیا ہے ؟اس سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے کہ دوسرے کے پاس مجھ سے کتنا زیادہ ہے۔یہ نفسیات جب فرد سے نکل کر قوم اور ریاست کی سطح پر پہنچتی ہے تو اس کے نتائج بہت دور تک جاتے ہیں۔

ایک طاقتور ریاست کو خوف ہوتا ہے کہ اس کا اثر کم نہ ہوجائے۔ ایک کمزور ریاست کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں طاقتور اسے اپنی مرضی کے تابع نہ کرلے۔ دونوں اپنے خوف کو درست سمجھتے ہیں اپنی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے خوف میں اضافہ کردیتے ہیں۔یوں امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام رہ جاتا ہے۔حالانکہ امن اس سے کہیں بڑا تصور ہے۔جس شخص کے گھر میں چولہا نہ جل رہا ہو، جسے اپنی زمین سے محروم کردیا گیا ہو جو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مسلسل خوفزدہ ہو یا جسے یہ یقین نہ ہو کہ قانون طاقتور اور کمزور کے لیے ایک جیسا ہے وہ کس معنی میں پُرامن زندگی گزار رہا ہے۔اگر ایک طرف محل ہو اور دوسری طرف بھوک تو صرف گولی نہ چلنے کو امن کہنا شاید امن کے معنی کو بہت چھوٹا کردینا ہے۔ امن انصاف سے جڑا ہوا ہے۔

امن اس یقین کا نام بھی ہے کہ میری جان محفوظ ہے، میری محنت کا پھل ،مجھ سے نہیں چھینا جائے گا، میرے بچوں کا مستقبل محفوظ ہے اور کوئی طاقتور شخص صرف اپنی طاقت کی بنیاد پر میرے حق کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ شاید اسی لیے امن کا راستہ صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ انسان کے اندر سے بھی گزرتا ہے۔ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہماری ضرورت کہاں ختم ہوتی ہے اور ہماری حرص کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ زیادہ دولت ہمیں زیادہ محفوظ کردے گی، زیادہ زمین ہمیں زیادہ طاقتور بنادے گی، زیادہ ہتھیار ہمیں زیادہ پُرامن کردیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم کب یہ سمجھیں گے کہ زمین ہماری ملکیت سے زیادہ ہماری ذمے داری ہے۔

انسان اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔ ہم زمین کے مالک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، سرحدیں کھینچتے ہیں، جھنڈے لہراتے ہیں ،ایک دوسرے سے لڑتے ہیں لیکن آخر میں سب کو اسی مٹی میں واپس جانا ہے جس پر ہم اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس زمین پر ہمارا قیام ہی عارضی ہے، اس کے لیے ہم ایک دوسرے کی نسلوں کو کیوں قربان کردیتے ہیں۔دوسرے کی روٹی چھین لینے سے ہماری بھوک ختم نہیں ہوتی۔ دوسرے کی زمین پر قبضہ کرنے سے ہماری زندگی بڑی نہیں ہوجاتی۔ دوسرے کے وسائل پر اختیار حاصل کرلینے سے ہمارے بچوں کے لیے کوئی ایسا مستقبل پیدا نہیں ہوتا جسے جنگ سے تباہ نہیں کیا جاسکتا۔

شاید ہمیں امن کو ایک دن ایک نعرے یا ایک قرارداد سے آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ 21 ستمبر کو ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ جنگ کیوں بری ہے۔ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ جنگ کی ضرورت پیدا ہی کیوں ہوتی ہے، وہ خوف کہاں سے آتا ہے جو انسان کو دوسرے انسان سے خطرہ محسوس کراتا ہے۔وہ سیاسی مفاد کیا ہے جو طاقت کو امن سے زیادہ ضروری بنا دیتا ہے۔ وہ معاشی سوچ کیا ہے جو ضرورت سے زیادہ جمع کرنے کو کامیابی سمجھتی ہے۔ وہ انسانی خواہش کیا ہے جو ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ہمارے پاس موجود چیز اس وقت تک کافی نہیں جب تک کسی دوسرے کے پاس اس سے کم نہ ہو،شاید امن کا سب سے مشکل راستہ انھی سوالوں سے شروع ہوتا ہے۔جب تک ہم صرف جنگ کے خلاف تقریریں کرتے رہیں گے اور جنگ پیدا کرنے والی وجوہ پر بات نہیں کریں گے امن ایک خوبصورت خواب ہی رہے گا۔

ہمیں شاید یہ سیکھنا ہوگا کہ طاقت کا مقصد دوسروں کو دبانا نہیں محفوظ کرنا ہے۔ وسائل کا مقصد جنگ کا جواز بننا نہیں، انسانی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ سرحدوں کا مقصد انسانوں کو ایک دوسرے سے نفرت سکھانا نہیں، ریاستوں کے درمیان ذمے دار تعلق قائم کرنا ہے۔اور شاید سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں کسی ایک انسان خاندان یا ریاست کے لیے اتنی زمین اتنی دولت اور اتنی طاقت نہیں ہوسکتی کہ باقی انسانوں کے حصے میں صرف محرومی رہ جائے کیونکہ آخرکار ہم سب مسافر ہیں۔کسی کے پاس زیادہ دیر کے لیے منزل نہیں۔صرف راستے الگ ہیں، انجام ایک ہے۔اگر انسان اپنی ضرورت پہچان لے حرص کی حد مقرر کرلے، خوف کو عقل سے شکست دے اور طاقت کو غلبے کے بجائے تحفظ کا ذریعہ بنا دے تو شاید امن اقوام متحدہ کی قراردادوں تقریروں اور عالمی دن کا محتاج نہ رہے۔ شاید پھر 21 ستمبر ہمیں امن یاد دلانے کے لیے نہ آئے۔ شاید تب امن یاد دلانے کی چیز نہیں زندگی گزارنے کا طریقہ ہوگا۔