خیبرپختونخوا کابینہ کی پولیس ایکٹ میں ترامیم، آئی جی کا مؤقف بھی سامنے آگیا

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں پولیس ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئیں


مبشر اسلام September 23, 2026
فوٹو: فائل

خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) نے صوبے میں پولیس ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے صوبائی کابینہ کو آگاہ کیا کہ اس حوالے متعلق ترامیم کو پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔

ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ آئی جی نے مجوزہ پولیس ایکٹ سے متعلق کابینہ اجلاس میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ آئی جی سے اختیارات لینے سے متعلق ترامیم کالعدم قرار دے چکی ہے اور اس موقع پر چیف سیکریٹری نے آئی جی کے مؤقف کی تصدیق کی۔

ذرائع کے مطابق آئی جی نے کہا کہ پولیس ایکٹ 2017 بنانے کا مقصد پولیس کو بااختیار اور جواب دہ بنانا تھا جبکہ مجوزہ پولیس ایکٹ میں آئی جی سے بعض اختیارات وزیر اعلیٰ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کی کابینہ نے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے اور  نئے قانون میں آئی جی سمیت وفاق سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت پر خدمات واپس کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ مجوزہ قانون کے تحت پولیس پالیسی بورڈ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی وزیراعلیٰ جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ کی سربراہی آئی جی کریں گے، صوبے میں ریجنل انویسٹی گیشن افسران تعینات کیے جائیں گے، ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کو خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے تحت کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے گا، تمام موجودہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز تحلیل کرکے نئے قانون کے تحت ازسرنو تشکیل دی جائیں گی، مجوزہ قانون پولیس کے نظام میں اہم اصلاحات متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔