مشرق وسطیٰ کی سیاست میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب جنگ کے شور میں اچانک چند ساعتوں کی خاموشی سنائی دیتی ہے اور اسی خاموشی میں آنے والے دنوں کی سمت کے اشارے چھپے ہوتے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان تین گھنٹے کی ملاقات بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ ایک طرف واشنگٹن کی جانب سے انتہائی سخت زبان، معاشی دباؤ اور فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکیاں ہیں، دوسری طرف اسی ماحول میں سفارتی رابطہ، ثالثوں کی آمدورفت اور مزید ملاقات پر اتفاق موجود ہے۔
یہی تضاد موجودہ مشرقِ وسطیٰ بحران کی اصل تصویر ہے۔ میدان میں طاقت کا اظہار جاری ہے، مگر بند دروازوں کے پیچھے فریقین اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ جنگ جتنی آسانی سے شروع کی جاسکتی ہے، اتنی آسانی سے ختم نہیں کی جاسکتی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں ہونے والی تین گھنٹے کی ملاقات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا، جب کہ امریکی جانب سے اس رابطے میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی موجودگی اور ثالثوں کے ذریعے ہونے والی بات چیت اس امر کی علامت ہے کہ براہِ راست اور بالواسطہ سفارت کاری کے مختلف راستے ابھی بند نہیں ہوئے۔ ٹرمپ نے اگرچہ اس ملاقات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن مزید رابطے کی تصدیق خود اس بات کی اہمیت بڑھا دیتی ہے کہ جنگ کے باوجود مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ تین گھنٹے کی گفتگو کتنی کامیاب تھی، بلکہ یہ ہے کہ اس گفتگو نے دونوں فریقوں کو کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی صدر ایک ہی وقت میں ایران کو معاہدے کی پیشکش بھی کررہے ہیں اور انتہائی سخت نتائج کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں انھوں نے ایران کو انتخاب کا ایک سخت خاکہ پیش کیا اور کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو تباہ کن کارروائی کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوسکتا ہے۔ اس تضاد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سفارت کاری میں زبان بھی ایک ذریعہ طاقت ہوتی ہے، لیکن جب دھمکی اور مذاکرات ایک ہی وقت میں چل رہے ہوں تو فریق مخالف کے لیے اصل ارادے اور قابلِ قبول شرائط کی حد متعین کرنا زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔
ایران کے لیے بھی صورتحال سادہ نہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کی شہ رگ ہے۔ اس کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی نے صرف امریکا اور ایران کے تعلقات کو متاثر نہیں کیا بلکہ خلیجی ممالک، عالمی منڈیوں، بحری تجارت اور توانائی کے تحفظ کو بھی براہِ راست خطرے میں ڈالا ہے۔
حالیہ رابطوں کے دوران ایرانی جانب سے یہ اشارہ بھی سامنے آیا کہ اگر امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ میں کمی آتی ہے تو آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے۔ تاہم ایرانی نظام کے اندر مختلف آوازوں کی موجودگی اور بعض حلقوں کی مذاکرات کے بارے میں محتاط یا مخالف سوچ اس عمل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
اس پس منظر میں اقوام متحدہ کا پاکستان سے دوبارہ رابطہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے تصدیق کی ہے کہ عالمی ادارہ امریکی ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے اور جون کے اسلام آباد مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار کو ایک اہم کامیابی قرار دیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششیں محض ایک وقتی رابطے تک محدود نہیں رہیں بلکہ بحران کے حل کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں میں پاکستان کو ایک قابلِ استعمال رابطہ کار سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ موقع غیر معمولی سفارتی اہمیت رکھتا ہے، مگر اس کے ساتھ غیر معمولی ذمے داری بھی وابستہ ہے۔ ثالث کا کردار فریق بننے سے مختلف ہوتا ہے۔ ثالثی کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ کسی ایک فریق کی ترجمانی کرنے کے بجائے دونوں کے لیے قابلِ قبول رابطے کا راستہ کھلا رکھے۔ امریکا سے پاکستان کے تعلقات، ایران کے ساتھ جغرافیائی اور تاریخی قربت، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں سے بڑھتے ہوئے روابط اور مسلم دنیا میں پاکستان کی حیثیت اسے ایک ایسا سفارتی مقام فراہم کرتی ہے جسے احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ہونے والی مشاورت بھی اہم ہے۔ چاروں ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کو واحد پائیدار راستہ قرار دیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت اور علاقائی بحری سلامتی پر زور اس بات کی علامت ہے کہ بحران اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاملہ نہیں رہا؛ اس کے اثرات پورے خلیجی نظام، عرب سلامتی اور عالمی تجارت تک پھیل چکے ہیں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع جتنا طویل ہوگا، اتنا ہی خطے کے ان ممالک پر دباؤ بڑھے گا جو بیک وقت سلامتی، معیشت، تجارت اور سفارتی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خلیجی ممالک کے لیے توانائی کی برآمدات اور بحری راستوں کا تحفظ بنیادی ضرورت ہے، جب کہ پاکستان کے لیے تیل کی قیمتیں، درآمدی بل، سمندری تجارت اور خطے میں پاکستانی شہریوں کے مفادات براہِ راست وابستہ ہیں۔ اس لیے جنگ کے خاتمے کی سفارت کاری محض اخلاقی مسئلہ نہیں، پاکستان کے معاشی مفاد کا بھی اہم حصہ ہے۔
امریکی صدر کی جنرل اسمبلی تقریر میں عالمی فوجداری عدالت، عالمی اداروں اور بین الاقوامی نظام کے بارے میں سخت موقف بھی اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہے، اگر بڑی طاقتیں عالمی اداروں کو صرف اس وقت قبول کریں جب ان کے فیصلے ان کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں، تو بین الاقوامی نظام کی ساکھ مزید کمزور ہوگی۔ دوسری طرف عالمی اداروں کی اثر پذیری بھی اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب وہ بڑی طاقتوں سمیت تمام ریاستوں کے لیے یکساں اصولوں کے نفاذ کا قابلِ اعتبار تصور پیش کریں۔
موجودہ بحران نے اس بنیادی سوال کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ اکیسویں صدی کی عالمی سیاست طاقت کے توازن سے چلے گی یا مشترکہ قواعد اور سفارت کاری کی طرف واپس آئے گی۔یوکرین کے معاملے پر امریکی صدر کا یہ کہنا کہ جنگ کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہوسکتی ہے اور امریکی اسلحے کے ذخائر کم ہونے کی اطلاعات درست نہیں، اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں سفارت کاری اور عسکری طاقت بیک وقت استعمال ہورہی ہیں۔
اب اصل امتحان یہ ہے کہ نیویارک میں ہونے والی بات چیت کو محض ایک وقتی رابطہ بننے سے کیسے روکا جائے۔ اگر اگلی ملاقات میں فریقین اپنی بنیادی شرائط واضح کرتے ہیں، آبنائے ہرمز کے معاملے میں قابلِ عمل انتظام تشکیل پاتا ہے، جوہری مسئلے پر قابلِ تصدیق فریم ورک سامنے آتا ہے اور جنگی کارروائیوں کو محدود کرنے کا راستہ نکلتا ہے تو موجودہ بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے، لیکن اگر مذاکرات صرف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ بن کر رہ گئے تو خطہ دوبارہ تصادم کی طرف جاسکتا ہے۔
پاکستان کے لیے دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں کو شخصیات یا وقتی کامیابیوں کے بجائے ادارہ جاتی تسلسل دے۔ اقوام متحدہ کا رابطہ، علاقائی ممالک کا مشترکہ سفارتی موقف اور امریکا و ایران کا دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا ایسے مواقع ہیں جنھیں مربوط سفارتی عمل میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کو جنگ کے فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے یہ اصول سامنے رکھنا ہوگا کہ خطے کا مستقبل کسی ایک طاقت کی بالادستی سے نہیں بلکہ باہمی سلامتی، خودمختاری، اقتصادی استحکام اور سیاسی مفاہمت سے وابستہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت مزید نعروں کی نہیں، ایسے مذاکرات کی ضرورت ہے جن میں دھمکی سے زیادہ دلیل، طاقت سے زیادہ ضمانت اور وقتی فتح سے زیادہ پائیدار امن کو اہمیت دی جائے۔ نیویارک میں تین گھنٹے کی گفتگو نے کم از کم یہ امکان دوبارہ زندہ کردیا ہے کہ جنگ کے بیچ سفارت کاری ابھی مکمل طور پر زندہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس امکان کو معاہدے میں بدلتی ہیں یا تاریخ ایک بار پھر یہ لکھتی ہے کہ مذاکرات کی میز قریب تھی، مگر جنگ کی آگ نے اسے پھر دور کردیا۔