پھر کچھ نہ گھڑا نہ کچھ سنوارا

زر گر پسرے چو ماہ پارا کچھ گھڑئیے سنوارئیے پکارا نقدِ دل من گرفت و بشکست پھر کچھ نہ گھڑا نہ کچھ سنوارا



غزل کے عظیم شاعر میر تقی میر کی تالیف ’’نکات الشعرا‘‘ فارسی کی ایک تاریخی کتاب ہے۔ اردو کے ایک معروف استاد ڈاکٹر پروفیسر محمد ایوب قادری نے نکات الشعرا کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر ایوب قادری 25 نومبر 1983 کو ایک حادثہ میں جاں بحق ہوئے تھے، ان کے ریکارڈ میں ہزاروں صفحات موجود ہیں۔ ڈاکٹر ایوب قادری کے صاحبزادے پروفیسر سعید حسن قادری نے اس مسودے کو تلاش کیا اور انجمن ترقی اردو کے ذریعے اسے شائع کیا۔ میر نے اپنی کتاب میں اردو کے بڑے شعرا کے کلام جمع کیے جن میں امیر خسرو، آرزو، بیدل سمیت سو کے قریب شعرا کے کلام شامل ہیں۔

میر تقی میر نے یوں لکھا ہے۔’’بات کرنے والے۔ یعنی اﷲ تعالیٰ کے بعد وہی تعریف کا مستحق ہے اور اس شفیع المذنبین (گناہگاروں کی شفاعت کرنے والے) اور اس کی تمام آل پر لاتعداد درود کے بعد جو مقصود آسمان و زمین ہیں (یعنی آسمان و زمین کو ان ہی کی وجہ سے پیدا کیا گیا)، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فن ریختہ میں جو فارسی شاعری کی طرح اردوئے معلی شاہ جہاں آباد دہلی میں شاعری ہے، ایسی ابھی تک تصنیف نہیں ہوئی کہ جس سے اس فن کے شاعر صفحہ روزگار قائم رہ جائے۔

اسی بنا پر یہ تذکرہ جس کا نام ’نکات الشعرا‘ ہے، لکھا جارہا ہے، اگرچہ ریختہ کا رواج دکن میں رہا لیکن وہاں ایک بھی شاعر ایسا پیدا نہیں ہوا جس کی شاعری میں کوئی ربط ہو، اس لیے ان کے نام سے شروع نہیں کیا گیا اور میری ناقص طبیعت اس لیے بھی اس جانب مبذول نہیں ہوئی کہ ان سے اکثر کے احوال ملال انداز میں پھر بھی ان سے بعض کے حالات لکھے جائیں گے۔ انشاء اﷲ تعالیٰ امید ہے کہ جس صاحب سخن کے ہاتھ میں یہ کتاب آئے گی ،وہ اسے مہربانی سے کھولے گا اور دیکھے گا۔ ‘‘

پروفیسر سعید قادری نے کتاب کے ابتدائیہ میں لکھا ہے کہ بیاض کے نام سے ہر صاحب علم واقف ہے۔ اس میں صاحب بیاض اپنے ذوق، علمی استعداد کے مطابق یادداشت کے طور پر تحریر کرلیتا ہے۔ کسی اہم واقعہ کو کسی تاریخ ولایت و وفات، یہی نہیں بلکہ عام رواج کے مطابق اپنے پسندیدہ اشعار جمع کرلیتا ،اسے بیت بازی میں خوب استعمال کرتا۔ مشکل جب ہوتی کہ جمع شدہ اشعار کے شاعروں کا نام تخلص بھی اس میں نہیں ہوتا مگر فارسی اردو زبان میں شاعروں کے کلام کا انتخاب بھی ہونے لگا مگر اس انتخاب کے ساتھ ساتھ نام شاعر، تخلص، علاقہ اور اس کے خاندانی تعارف کا بھی رواج ہوگیا۔

تمام تذکرے اسی نہج پر ترتیب دیے جانے لگے۔ فارسی میں طرز کے تذکروں کا ذکر ملتا ہے۔ میر تقی میر نے ’’نکات الشعرا‘‘ کو اس ڈگر سے ہٹ کر ترتیب دیا۔ شعرا کے حالات اور ان کی شاعری پر تبصرہ فارسی میں کیا اور ان شاعروں کا کلام اردو میں شامل ہے۔ یہ تذکرہ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے دستیاب کیا، اس کو کئی لوگوں نے اپنے اپنے مقدمات کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مرتب کیا۔

ڈاکٹر پروفیسر محمد ایوب قادری آنولہ ضلع بریلی میں 28 جولائی 1926 میں پیدا ہوئے۔ آنولہ کے ایک مکتب مدرسہ تعلیم المومنین میں پرائمری کا امتحان پاس کیا اور وظیفے کے مستحق ٹھہرے۔ پھر اسی قصبے کے ایڈورڈ اسکول سے مڈل کا امتحان نمایاں نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ انھوں نے 1947میں بدایوں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر حافظ صدیق اسلامیہ کالج سے انٹر کیا۔ پھر وہ پاکستان آگئے اور اردو کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر کراچی یونیورسٹی سے پرائیوٹ امیدوار کی حیثیت سے ایم اے کا امتحان پاس کیا اور اردو کالج میں انھوں نے طویل عرصے تک تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔

ڈاکٹر یاسمین سلطانہ فاروقی نے کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ میر تقی میر کی شاعری اور تذکرہ نگاری اردو ادب میں قیمتی سرمائے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میر تقی میر نے اردو شعرا کے تذکرہ نگاری کی بنیاد فراہم کی جسے متاخرین نے احسن انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ میر تقی میر کا مرتب کردہ اردو شاعری کا پہلا تذکرہ ’’نکات الشعرا‘‘ 1751میں مرتب ہوا۔ اس تذکرے کو اردو ادب میں پہلا تذکرہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اسے ہم بنیادی ماخذ کے طور پر بھی لیتے ہیں۔ شمالی ہند کے ۱۰۲ شعرا کے حالاتِ زندگی فارسی زبان میں قلم بند کیے گئے ہیں۔ میر تقی میر کے انتخاب سے ان کے شعری نظریات اور ذوق سلیم کا پتہ چلتا ہے۔ امیر خسرو، عبدالقادر بیدل، خانِ آرزو فطرت اور مظہر جان جاں و دیگر قابلِ ذکر ہیں۔’نکات الشعرا‘ میں شامل شعرا کا تعلق شمالی ہند سے رہا ہے۔ اسی عرصے میں ایک تذکرہ خانِ آرزو نے بھی مرتب کیا مگر وہ تذکرہ کلی طور پر فارسی شعرا سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا ذکر میر نے بھی کیا ہے۔

میر تقی میر نے ’نکات الشعرا‘ میں اس عہد کے شعرا کی مختصر سوانح شعری اسلوب اور نمونہ کلام معنی خیز انداز میں قلم بند کیے ہیں۔ میر کے مرتب تذکرے کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے مقدمات پر شعرا کے احوال فارسی میں لکھتے ہیں جب کہ شعری امثال اس دور کی مروجہ زبان اردو میں قلم بند کیے ہیں، یوں اس زمانے کی لسانی فضا اور اردو زبان کے ابتدائی خدوخال کا پتہ ملتا ہے۔ اگرچہ ’نکات الشعرا‘ کے متعدد تراجم اور تشریحات شائع ہوچکی ہیں جن میں ’تذکرئہ میر‘ ، ایم کے فاطمی (لکھنؤ ۱۹۶۳ء)، ’’نکات الشعرا‘ ، ازحمیدہ خاتون (دہلی ۱۹۹۴ء) اور ’نکات الشعرا‘ ، سید محمد شاہ (س۔م۔شاہ) غیر مطبوعہ، مخزونہ مرکزی لائبریری، جامعہ کراچی شامل ہیں۔ تاہم ڈاکٹر محمد ایوب قادری کے ترجمے کو خاص منفرد مقام حاصل ہے کہ ڈاکٹر قادری نے ’نکات الشعرا‘ میں شامل شعرا کی سوانح اور کلام کو سادہ رواں اور سلیس اردو زبان میں منتقل کردیا ہے تاکہ عصر ِ موجود کے تشنگانِ علم اور تحقیق کے طلبہ اس ترجمے سے استفادہ کرسکیں۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی کے صدر اور اردو کے معروف نقاد پروفیسر شاہد کمال نے کتاب پر یوں تبصرہ کیا ہے۔ ’’اردو شعرا کے ابتدائی تذکروں میں تین کتب شمار کی جاتی ہیں میرتقی میر کی نکات الشعرا،حمید اورنگ آبادی کی گلشن گفتاراور افضل بیگ کی تحفۃ الشعرا۔یہ تینوں تذکرے تقریبا ایک ہی زمانے کے ہیں لیکن محققین کے نزدیک میر کا نکات الشعرا اردو شعرا کا پہلا تذکرہ قرار پاتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس زمانے تک اردو شاعری تو اپنی شناخت متعین کر چکی تھی لیکن اردو نثر اپنا منظر نامہ تلاش کررہی تھی اور یہی سبب تھا کہ میر نے اپنے تذکرے کے لیے فارسی زبان اختیار کی۔

اس تذکرے میں اس زمانے تک کے سوقابل ذکر 100 شاعروں کا تعارف پیش کیا گیا جس کا پہلا شاعر امیر خسرو اور آخر میر تقی میر خود ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ میر کو اپنے تئیں عظمت کا اندازہ تھا۔نکات الشعرا کے بعد تذکرہ نگاری کا یہ سلسلہ باقاعدہ صنف کی شکل اختیار کر گیا،لیکن جہاں تک میر کے تذکرے کا تعلق ہے آگے چل کر اس کے اردو ترجمے کی ضرورت پیش آئی اور جیسے جیسے ہم فارسی سے دور ہوتے گئے ،یہ ضرورت شدید ہوتی گئی اور ہمارے عہد تک آتے آتے متعدد لوگوں نے اس کتاب کے تراجم کیے جن میں بابائے اردو مولوی حق کے علاوہ ڈاکٹر محمود الٰہی،عبادت بریلوی اور عطا کاکوری وغیرہ اس تعلق سے پہچانے جاتے ہیں ۔

ہمارے عہد میں یہ کام ایوب قادری نے انجام دیا جسے ان کے صاحبزادے سعید قادری نے اپنی ہمت و کاوش سے از سر نو ترتیب دیا اور انجمن ترقی اردو نے اسے بابائے اردو کا تحریری تسلسل سمجھتے ہوئے نہایت عمدہ انداز سے حال ہی میں شائع کیا۔اس کتاب کی اصل خوبی یہ ہے کہ اس میں گزشتہ تراجم میں موجود اسقام اور ابہامات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،جس کے لیے سعید قادری کی خدمات تاریخ میں یاد رکھی جائیں گی۔‘‘ امیر خسرو کے ان اشعار کو کتاب کا سرمایہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔

زر گر پسرے چو ماہ پارا

کچھ گھڑئیے سنوارئیے پکارا

نقدِ دل من گرفت و بشکست

پھر کچھ نہ گھڑا نہ کچھ سنوارا