پاکستان کی داخلی سیاست بڑی تیزی سے ایک بار پھر محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے کے خلاف لنگوٹ کس لیا ہے۔بظاہر یہ ہی کہا جارہا ہے کہ مسائل کا حل سیاست، جمہوریت،بات چیت اور مفاہمت کی بنیاد پر ہے لیکن ہم طاقت کی بنیاد پر ایک دوسرے پر سیاسی سبقت اور بالادستی حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ مہینہ ستمبر لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست سے جڑا نظر آتا ہے جہاں حکومتی مخالفین اسلام آباد پر سیاسی چڑھائی کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
سب سے اہم لانگ مارچ دو بڑی سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا ہے ۔جب کہ جماعت اسلامی نے لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سمیت کسان اتحاد بھی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرچکے ہیں۔ اسلام آباد کے شہر میں آنے والے یہ دھرنے اسلام آباد کو کس حد تک بند کرتے ہیں یا کتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اسلام آباد میں لاتے ہیں ۔اس سے قطع نظر وفاقی حکومت نے پورے شہر کو لانگ مارچ اور دھرنوں کی بنیاد پر خود ہی اول بند کرنا ہے اور دوئم، اسلام آباد میں آنے والے لوگوںکو عملی طور پر روکنا ہے۔
مظاہرین اور انتظامیہ میں یہ تصادم ملک کے مفاد میں نہیں۔یہاں ہم دھرنا یا لانگ مارچ کی حمایت کرنے والوں کی مخالفت کرسکتے ہیں۔لیکن اس نقطہ پر بھی غور کرنا ہوگا کہ حکومت بات چیت و مفاہمت کی مدد سے لانگ مارچ یا دھرنا روکنے میں کیونکر ناکام نظرآتی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ دھرنا یا لانگ مارچ کرنے والوں نے حکومت سے مذاکرات نہیں کیے ،مذاکرات ہوئے مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔اصل میں مذاکرات کے عمل میں جب دونوں فریق اپنے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو ایسے میں مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔
قومی سیاست میں جو تناؤ،ٹکراؤ اور ایک دوسرے کی سیاسی قبولیت کو تسلیم نہ کرنا اور اپنے سیاسی مخالفین کو برداشت نہ کرنے کے عمل نے ملکی معاملات کو نقصان پہنچایا ہے۔اسی طرز کی کہانی ملک میں کئی دہائیوں سے جاری ہے مگر کوئی ماضی کی سیاسی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔سیاست اور جمہوریت میں جہاں حکومت اہمیت رکھتی ہے وہیں حزب اختلاف سمیت حکومت کی مخالفت میں موجود متبادل آوازوں کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور ان آوازوں کو قبول نہ کرنا خود جمہوری نظام کی نفی کے زمرے میں آتا ہے۔
ایک ایسے سیاسی ماحول میں جہاں لوگوں کے سیاسی معاشی حقوق بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور موجودہ گورننس کا نظام بھی ان کی توقعات کے برعکس ہوتو وہاں مزاحمت کی سیاست کو کیسے روکا جاسکے گا۔کیا ان متبادل اٹھنے والی آوازوں کا واحد علاج طاقت کا استعمال ہے ۔اگر فرد یا ادارہ یا جماعت سیاسی ،آئینی دائرہ کار میں رہ کر آواز اٹھانی چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے اور اس کو تسلیم کرنا ہی جمہوریت ہے۔
یہ حق آئین میں موجود ہے۔اگر کوئی جماعت آئین سے انحراف کرکے یا مسلح ہوکر باہر نکلتی ہے تو اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔آج کی حکمران جماعتیں بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ کرتی رہی ہیں اور ان کے اس حق کو تسلیم بھی کیا گیا۔لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے جیسے ہی حزب اختلاف کی جماعتیں باہر نکلنے اور احتجاج کے راستے کا اعلان کرتی ہیں تو حکومت ان کے خلاف کریک ڈاون کے لیے سیاسی لنگوٹ کس لیتی ہے۔ حکومتی نظام میں سوچنے کی یہ صلاحیت بہت کمزور ہے کہ لوگ کیونکر احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور اس کی بڑی وجوہات محض حکومت کے ساتھ سیاسی دشمنی ہے یا ان کے مسائل ہیں جس سے وہ متاثر ہو رہے ہیں۔حکمران طبقات اصلاح کا راستہ تلاش کریں۔لیکن اس کے برعکس طاقت کی بنیاد پر نمٹنے سے مسائل حل نہیں بلکہ اور زیادہ انتشار پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
یہ ہی وہ حکمت عملی ہے جو حکمرانوں کی مقبولیت کو کم کرتی ہے ۔ہر مسئلہ کا علاج ڈنڈا نہیں ہوتا اس کی وجہ سے لوگوں کا حکمرانی کے نظام سے اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔احتجاج کی سیاست میں جہاں سیاسی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں عام شہری اور کاروباری طبقہ سمیت معیشت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔تعلیم اور دفاتر کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے،ایسے میں حکومت کی حکمت عملی احتجاج کی سیاست کو روکنے کی ہونی چاہیے۔ ایک طرف مارچ یا دھرنا دینے والوں کا جوش اور دھمکیاں اور دوسری طرف حکومت کا اسلام آباد کے داخلی راستوں کو بند کرنے کی حکمت عملی شہریوں کے لیے مسائل پیدا کردیتی ہے۔پی ٹی آئی کا احتجاج اور حکومت کی جانب سے گرفتاریاں حالات میں کشیدگی پیدا کر رہی ہے۔ پولیس فورس کو اسلام آباد طلب کیا جارہا ہے۔اصل خطرہ یا ٹکراؤ خیبر پختونخوا سے ہے جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔اگر یہاں سے بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد کی طرف رخ کرتے ہیں تو اس کوکیسے روکا جاسکے گا۔
اسی طرح سے یہ سوچنا کہ لوگوں کا حکومتی اقدامات پر احتجاج کرنا یا سڑکوں پر نکل کر مزاحمت کرنا حکومتی دشمنی ہے درست اقدام نہیں۔وگرنہ ہمیں تمام جمہوری حقوق جو آئین میں درج ہیں بشمول احتجاج کو ہر سطح پر اور ہر ایک کے لیے ختم کردینا چاہیے۔اپوزیشن اگر پرامن احتجاج کرے اور دھمکیوں سے گریز کرے تو حکومت کے لیے مسائل پیدا نہیں ہوتے اگر اپوزیشن جارحانہ رویہ اختیار کرے تو حکومت بھی ایکشن لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔جب بھی کوئی سیاسی جماعت اپوزیشن میں ہوگی تو اسے سارے جمہوری حقوق یاد آئیں گے اور اس کے احتجاج کو کوئی بھی حکومت قبول نہیں کرے گی۔ہر حکومت امن چاہتی ہے مگر اپوزیشن حکومت کے لیے مسائل پیدا کرنا اور اسے کمزور کرنا اپنا حق سمجھ لیتی ہے۔
پاکستان جب تک جمہوری سوچ اور طرز عمل کے ساتھ آگے نہیں بڑھے گا ہم جمہوری ریاست کے طور پر اپنی شناخت قائم نہیں کرسکیں گے۔حکومت کو مخالفین کی آواز یا احتجاج کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔اسی طرح حکومت کے مخالفین بھی احتجاج کی بنیاد پر ایسی کوئی ریڈ لائن کراس نہ کریںجو حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے اور امن و امان کے مسائل پیدا ہوں۔اصل میں تو ضرورت اس امر کی ہے حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں اپنی اپنی سیاست میں ذمے دارانہ طرزعمل اختیار کریں تاکہ حکومت کے نظام کو آئین اور قانون کے دائرہ کار میں چلایا جاسکے۔
اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ احتجاج کے دوران پرامن رہے اور قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرے۔ یہ جو بلاوجہ کی سیاست کا الجھاؤ ہے اسے ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔لیکن جب ہماری سیاست جمہوری،آئینی اور قانونی یا شفافیت کے دائرہ کار سمیت عوامی مفادات کے برعکس ہی چل رہی ہو تو وہاں حکمرانی کے نظام میں مسائل کا پیدا ہونا فطری امر ہوگا۔جب حکمرانی کا نظام شفافیت کی بنیاد پرنہیںچلے تو پھر نہ تو لوگ مطمئن ہوسکیں گے اور نہ ہم لوگوں کو مطمئن کرسکیں گے۔ یہ جو لوگوں میں بے چینی، لاتعلقی یا مسائل کا طوفان ہے اس کا ایک اظہار ان کے پاس احتجاج کا بھی ہوتا ہے۔مگر جب وہ احتجاج کے لیے باہر نکلتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ افراتفری مچانے سے گریز کریں ورنہ حکومت ان کے ساتھ سختی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرے ۔لوگ احتجاج کے لیے عدالتوں کا راستہ بھی اختیار کرتے ہیں ۔
یہ وہ سوالات ہیں جو اس ملک کے حکمرانی اور عدالتوں کے نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔اس پر اپنی من مرضی کرنے کی بجائے سب کو سنجیدگی کی بنیاد پر سوچنا ہوگا کہ جمہوریت کے نظام میں احتجاج کیا ہوگا اوراس کے فریم ورک کو کیسے تیار کیا جائے گا۔کیونکہ جہاں جمہوریت چلنی ہے تو وہیں حکومت بھی ہوگی اور حزب اختلاف بھی ۔ان تینوں کے درمیان کچھ بنیادی نوعیت کے اصول طے کرکے ایک دوسرے کے حق کو تسلیم کرکے آگے بڑھا جاسکتا ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت اسلام آباد میں ہونیوالے ستمبر کے لانگ مارچ سے کیسے نمٹتی ہے اور کیا یہ عمل پر امن بنیاد پر یا تشدد کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔