ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد

لاہور ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا


ویب ڈیسک September 24, 2026

لاہور:

لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

جسٹس عبہر گل خان نے ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی جانب سے رانا مدثر عمر اور بیرسٹر تیمور پیش ہوئے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے فرخ لودھی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

عدالت نے نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس عبہر گل نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ فریقین سے رپورٹ منگوا لیتے ہیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ خانم کے وکیل رانا مدثر عمر نے دلائل دیے کہ مجھے دو منٹ دیں، میں نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو معطل کروانا چاہتا ہوں، میں کورٹ کے سامنے کچھ حقائق بیان کرنا چاہتا ہوں، دونوں گھریلو خواتین ہیں جبکہ ڈاکٹر عظمی خانم کے خلاف درج مقدمے میں وہ بے قصور قرار ہو چکی ہیں۔

وکیل رانا مدثر عمر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی کاپی فائل کے ساتھ موجود ہے۔

واضح رہے کہ نورین نیازی کی بیٹی سکینہ سمیت دیگر نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواستیں دائر کی تھیں جس میں ڈی سی کی جانب سے نظر بندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔