جرمنی نے علاقائی تنازعات کے حل کیلئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو سراہا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف کی گئی ہے۔
جرمن دفتر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جرمنی پاکستان کی جانب سے علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بیان میں خاص طور پر آبنائے ہرمز اور باب المندب سے متعلق سفارتی کوششوں کا ذکر کیا گیا۔
جرمن اور پاکستانی وزرائے خارجہ کے درمیان رابطے میں علاقائی صورتحال سمیت دیگر اہم عالمی معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے یوکرین جنگ کے معاملے پر بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جبکہ باب المندب بھی خلیج عدن اور بحیرہ احمر کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ ہے۔ ان دونوں راستوں میں کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔
جرمنی کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی پذیرائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے مختلف ممالک سفارتی رابطے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان بھی فریقین کے درمیان مذاکرات اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔