اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران شرکا کے سامنے ایک پیجر دکھایا جس کے پیچھے حزب اللہ پر حملے کی داستان ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنان میں 17 ستمبر 2024 کو حزب اللہ کے رہنماؤں کے زیر استعمال ہزاروں پیجر دھماکوں سے پھٹ گئے تھے جس میں 12 افراد جاں بحق اور 3 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
اس موقع پر نیتن یاہو نے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا زکر بھی کیا اور اپنی ان کارروائیوں میں حزب اللہ کے سربراہ سمیت اعلیٰ رہنماؤں کو قتل کا بھرپور دفاع بھی کیا۔
پیجر دکھا کر اسرائیلی وزیراعظم نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اس میں مہارت اور جنگ میں اس کی افادیت بھی ظاہر کی اور حزب اللہ پر ایک گہرا طنز بھی کرتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو نے جس پیجر کو لہرا کر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کو قابل فخر قرار دیا، واقعے کے بعد کافی عرصے تک اس بات سے انکاری رہے تھے کہ پیجر کو بم بنانے میں اسرائیل کا کردار تھا۔
نیتن یاہو نے اسی خطاب میں اسٹارلنک ڈیوائس لہراتے ہوئے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران رجیم آپ کو آزادی اظہار رائے سے روکتی ہے، اس ڈیوائس سے انٹرنیٹ تک آسان اور محفوظ رسائی اور اظہارِ رائے کی آزادی مل سکتی ہے۔
انھوں نے یہ ڈیوائس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے پاس چھوڑنے کی بات بھی کی تاکہ ان کے بقول مستقبل میں ایران سے منحرف ہونے والے افراد سوشل میڈیا پر آزادانہ طور پر اپنی بات بیان کرسکیں۔