اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران، غزہ، حماس، قطر، ترکیہ اور مغربی ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسرائیل کے اقدامات کا دفاع کیا اور کہا کہ دنیا کو جمہوریتوں کی برادری اور مسلم برادرہڈ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آبادکاروں کے مظالم کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے نسل کشی کے الزام کی تردید کی۔
جمہوریتوں کی برادری یا مسلم برادرہڈ
نیتن یاہو نے کہا کہ یورپ کے بعض رہنما آزادی کے دفاع سے خوفزدہ ہیں اور مبینہ ’یہود مخالف ہجوم‘ کے دباؤ میں آ رہے ہیں۔ یورپ کو اب ’جمہوریتوں کی برادری‘ یا ’مسلم برادرہڈ‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کی قیادت کو ’تہران کے آمر‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکمران اپنے ہی عوام سے خوفزدہ ہیں۔
تقریر کے دوران نیتن یاہو نے اسٹارلنک کا ایک مواصلاتی آلہ بھی دکھایا اور کہا کہ اس کے ذریعے ایرانی عوام آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔
ایران میں حکومت تبدیلی کا دعویٰ
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران میں رواں سال ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرین سے سوال کیا کہ جب ایرانی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی تو وہ کہاں تھے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت ’اپنے جھوٹ، کرپشن اور ظلم‘ کے باعث بالآخر ختم ہوجائے گی اور بالآخر وہاں عوام کی طاقت اقتدار میں موجود لوگوں پر غالب آجائے گی۔
ایران کے جوہری مراکز تباہ کرنا آسان ترین فیصلہ تھا
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کا فیصلہ بطور وزیراعظم ان کے لیے آسان ترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روک کر اسرائیل نے دنیا کو خطرے سے بچایا۔ اگر اسرائیل نے یہ کارروائی نہ کی ہوتی تو ہم سب ہلاک ہوچکے ہوتے۔
انھوں نے جنرل اسمبلی سے کئی عرب سفارت کاروں کے واک آؤٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ان ممالک کا بھی دفاع کیا جو اجلاس سے باہر چلے گئے جبکہ بعض رہنماؤں نے نجی طور پر اسرائیل کے اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
غزہ میں نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
غزہ میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات کو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں خوراک اور ویکسین پہنچانے سمیت شہریوں کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
تاہم ان کے بیان کے برعکس انسانی امدادی ادارے غزہ میں امداد کی رسائی اور شہریوں کی صورت حال پر مسلسل تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔
نیویارک کے پہلے مسلم میئر پر بھی شدید تنقید
نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو اسرائیل مخالف مؤقف رکھنے پر حماس کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک میں یہودی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ ظہران ممدانی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں اور عالمی عدالت کے وارنٹ کی تعمیل میں ان کی گرفتاری کی بھی حمایت کرچکے ہیں۔
قطر اور ترکیہ پر بھی حملے
اسرائیلی وزیراعظم نے قطر پر اسرائیل کے خلاف ’جھوٹ پھیلانے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ امریکی جامعات اور الجزیرہ جیسے میڈیا اداروں کی مالی معاونت کے ذریعے نوجوانوں کو اسرائیل، امریکا اور مغرب سے نفرت کی طرف مائل کررہا ہے۔
انھوں نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر کردوں، یونان، قبرص اور صحافیوں سے متعلق پالیسیوں کے حوالے سے الزامات عائد کیے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ترک صدر اردوان اسرائیل کی تباہی کی بات کرتے ہیں اور یروشلم پر حکمرانی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن یہ ہمارا شہر ہے۔
فلسطینوں پر تشدد کرنے والے یہودی آبادکاروں کا دفاع
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے حوالے سے نیتن یاہو نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا چند ’شرپسند نوجوانوں‘ کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ خود ’ہجوم کے ہاتھوں قانون نافذ کرنے‘ کے خلاف ہیں اور اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے کو ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہودی آبادکاروں کے تشدد کے واقعات میں سالانہ صرف چند افراد ہلاک ہوتے ہیں۔
ٹرمپ کی تعریف، امریکا اسرائیل اتحاد کا ذکر
نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’دلیرانہ قیادت‘ اور اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر ’تہذیب کے تحفظ‘ کے لیے کام کیا۔
انھوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کو اسرائیل کی تاریخ کا ’سیاہ ترین دن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ تین برس کے دوران کئی محاذوں پر جنگ لڑی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا بھی زکر کیا اور ایران کے جوہری و میزائل پروگرام کے خلاف کارروائیوں کو اسرائیل کی فوجی کامیابیوں میں شمار کیا۔
اقوام متحدہ پر میزائل حملے کی مثال
نیتن یاہو نے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ٹن وزنی میزائل اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر گرے تو وہ پوری عمارت کو تباہ کرسکتا ہے۔
انھوں نے اسرائیلی فوج کو دنیا کی سب سے زیادہ اخلاقی ضابطوں کی پاسداری کرنے والی فوج بھی قرار دیا۔
یورپ، برطانیہ اور فرانس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا
نیتن یاہو نے برطانیہ اور فرانس کی جانب سے اسرائیل پر نوآبادیاتی عزائم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دونوں ممالک کے اپنے نوآبادیاتی ماضی کا حوالہ دیا۔
شام کے صدر احمد الشرع کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے گولان کی پہاڑیوں پر بھی اسرائیلی مؤقف دہرایا اور کہا کہ یہ علاقہ بائبل کے زمانے میں یہودیوں کے زیرِ قبضہ تھا۔
’ہم جیتیں گے، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں‘
اپنے بھائی یوناتان ’یونی‘ نیتن یاہو کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے 1967 کی جنگ اور 1976 کے اینٹی بی طیارہ اغوا آپریشن کی یادیں بیان کیں جس میں ان کے بھائی اسرائیلی کمانڈو کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔
نیتن یاہو نے اپنے بھائی سے منسوب جملہ دہراتے ہوئے کہا کہ ’ہم جیتیں گے، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘ تقریر کے اختتام پر بھی انہوں نے اسی جملے کو دہرایا اور انہیں حاضرین کی جانب سے تقریباً 30 سیکنڈ تک تالیاں ملتی رہیں۔