اٹلی کے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کردی گئی

نئے قانون کے تحت ایک کلاس میں ایسے طلبا کی تعداد 30 فیصد تک محدود ہوگی جنہیں اطالوی زبان پر مناسب دسترس حاصل نہیں ہے


ویب ڈیسک September 25, 2026
(اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسکول میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کردی؛ (فوٹو: اے آئی Italy ban burqa niqab in school

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کی کابینہ نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے طلبا کی تعداد محدود کرنے کے لیے نیا قانون منظور کرلیا ہے جو اطالوی زبان پر مناسب عبور نہیں رکھتے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں بتائی۔ جس پر متضاد آرا سامنے آئی ہیں۔

اطالوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ نئے قانون کے تحت ایک کلاس میں ایسے طلبا کی تعداد 30 فیصد تک محدود ہوگی جنہیں اطالوی زبان پر مناسب دسترس حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ طلبا کو اطالوی زبان سیکھانے کے لیے مختلف اقدامات بھی اُٹھائے جائیں گے جن میں زبان کی مفت تعلیم کی فراہمی بھی شامل ہوگی۔ 

وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پہننے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ملک کی سیکیورٹی کا معاملہ قرار دیا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ برقع اور نقاب پر پابندی کی خلاف ورزی قابل گرفت جرم تصور ہوگی اور ایسی طالبات کو اسکول سے خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔

اپوزیشن رہنما ایلی شلین نے حکومت پر بچوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اقدام کو ’’نئی جادوگرنی کی تلاش‘‘ قرار دیا ہے۔

وزیر تعلیم جوزیپے والدیتارا نے بتایا کہ اطالوی زبان پر ناکافی عبور تعلیمی پیش رفت میں رکاوٹ بنتا ہے۔ بچوں کی تعلیمی کامیابی کے لیے والدین کی ان کے تعلیمی سفر میں شرکت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

اٹلی میں تقریباً 34 ہزار اسکول کلاسز ایسی ہیں جہاں غیر ملکی طلبا کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاہم زبان سیکھنے کی پابندی نئے طلبا پر لاگو ہوگی جو اطالوی زبان سے واقف نہیں۔

علاوہ ازیں اٹلی میں پیدا ہونے والے یا کنڈرگارٹن سے تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبا کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔