کھانا انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے، لیکن اچھا اور لذیذ کھانا تیار کرنا محض ضرورت پوری کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک خوب صورت فن بھی ہے۔
کھانا پکانے میں ذائقے، خوشبو، رنگ، صفائی اور خوب صورتی کا ایسا امتزاج پیدا کیا جاتا ہے جو کھانے کو مزید دل کش بنا دیتا ہے۔ اسی لیے کھانا پکانے کو ایک فن کہا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں یہ فن صرف گھر تک محدود نہیں رہا بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے روزگار اور کاروبار کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔
کھانا پکانے کا فن بہت قدیم ہے اور ہر علاقے کی کھانے کے حوالے سے اپنی اقدار اور روایات ہیں۔ پاکستان کے لذیذ کھانوں میں بریانی، قورمہ، پلاؤ، زردہ، انواع و اقسام کی مٹھائیاں، مختلف طرح کی روٹیاں وغیرہ شامل ہیں۔ کئی کھانے مخصوص مواقع جیسے عیدین، شادیوں اور دعوتوں میں تیار کیے جاتے ہیں، گویا ایک تہذیب اور ثقافت کا اظہار ہیں۔ اس طرح کھانا پکانے کا تعلق ہماری معاشرتی زندگی اور ثقافت سے بھی گہرا ہے۔
ایک اچھا باورچی صرف ترکیب پر عمل نہیں کرتا بلکہ وہ اجزا کی مقدار، مصالحوں کے مناسب استعمال، پکانے کے وقت اور درجۂ حرارت کا خیال رکھتا ہے۔ کھانے کی پیش کش بھی اس فن کا اہم حصہ ہے۔ خوب صورت انداز میں سجایا گیا کھانا دیکھنے میں بھی دل کش لگتا ہے اور کھانے والے کی دلچسپی بڑھاتا ہے۔ اس کام میں تخلیقی صلاحیت، صبر، محنت اور تجربہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں.
کھانا پکانا دیکھنے میں بہت آسان کام لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ ایک فن یا ہنر ہے اور ہر کوئی اس میں ماہر نہیں ہوتا. یہ ایک ایسی خوبی ہے جو لوگوں کا دل جیت لیتی ہے. اچھا کھانا پکانے کے لیے مسلسل محنت اور مشق ضروری ہے, اسی طرح کھانا پکانے کے عمل میں صفائی ستھرائی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ جب گھر میں صاف ستھرا کھانا پکتا ہےتو ایک گھر میں رہنے والے ایک دوسرے کے اور قریب آجاتے ہیں۔ اور ان میں محبت بڑھنے لگتی ہے، خاص طور پر بچے اپنی ماں کے ہاتھ کے کھانےکو بہت پسند کرتے ہیں اور فرمائشیں کر کے کھانا پکواتے ہیں۔
اسی طرح کئی لوگ مختلف قسم کے کھانے پکانا سیکھنے کا شوق رکھتے ہیں. پاکستانی، اٹالین اور چائنیز کھانے تو دنیا بھر میں مشہور اور مقبول کھانے ہیں. دنیا کے ممالک کے کھانے جن لوگوں کو بنانا آتے ہیں وہ اس ملک کی ثقافت سے بھی آگاہ ہوجاتے ہیں۔
کھانا پکانا روزگار کا ایک اہم ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ آج کل ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، بیکریوں، شادی ہالوں اور کیٹرنگ کے اداروں میں ماہر باورچیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لوگ اس فن میں مہارت رکھتے ہیں وہ بطور شیف یا باورچی اچھی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ اپنے گھروں سے بھی کھانے کا کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔ گھر کے بنے ہوئے کھانے، مٹھائیاں، بیکری کی اشیا اور تیار کھانے فروخت کرکے آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔
جدید دور سوشل میڈیا کا دور ہے اور کھانا پکانے کے فن کو لوگوں کے سامنے منظر عام پر لانا اس سوشل میڈیائی دور میں بہت آسان ہوگیا ہے۔ آپ اپنا کھانا بنا کر اس کی تصاویر اور ویڈیو اپ لوڈ کرکے دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ گھر میں رہ کر کام کرنے والے افراد سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا کام صارفین سے شئیر کر سکتے اور اپنے کاروبار کا بہترین آغاز کرسکتے ہیں۔ شروع میں کوئی بھی کھانے کا کاروبار رشتے داروں یا دوست احباب تک محدود رہ سکتا ہے لیکن بعد ازاں ذائقے کو بہتر بنا کر اسے وسیع پیمانے پر بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک خاندان کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ شروع میں بے شک ایک آدمی پکائے لیکن بعد میں اسے مددگاروں کی ضرورت بھی پڑ جاتی ہے جو کہ باقی ماندہ گھر کے افراد پوری کرسکتے ہیں۔ اس طرح کاروبار بھی وسیع ہو سکتا ہے اور خاندان کا خاندان روزگار سے استفادہ کرسکتا ہے۔
کھانا پکانے کی تربیت حاصل کرنا بھی ایک اچھا پیشہ ورانہ راستہ ہے۔ مختلف اداروں میں کوکنگ، بیکنگ، فوڈ سیفٹی اور ہوٹل مینجمنٹ کے کورسز کیے جا سکتے ہیں۔ تربیت یافتہ افراد مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ملازمت کے مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے افراد جو مختلف ممالک کے کھانوں کی تیاری سیکھ لیتے ہیں، ان کے لیے روزگار کے نئے راستے پیدا ہو سکتے ہیں۔
آج کل عام کھانے کے ساتھ ساتھ بیکنگ کا کام بھی بہت مانگ میں ہے۔ کیک، پیزا، پیسٹریز، براؤنیز سب کے سب گھر پر بہت اچھے تیار کیے جا سکتے ہیں اور گھر سے ہی آرڈر ڈیلیور کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن وقت کی پابندی، صفائی ستھرائی اور بہترین پریزنٹیشن بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ اسی سے آپ گاہکوں کو اپنی پروڈکٹ فروخت کرسکتے ہیں۔ لوگ ہمیشہ صاف ستھری چیزیں کھانا پسند کرتے ہیں جبکہ اچھی پریزنٹیشن سے چیز کی کوالٹی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
کھانا پکانے سے انسان میں خود اعتمادی، تخلیقی صلاحیت اور محنت کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ گھر میں کھانا پکانا سیکھنے سے انسان دوسروں پر کم انحصار کرتا ہے۔ نوجوان اس ہنر کو سیکھ کر اپنی تعلیم یا ملازمت کے ساتھ جز وقتی کاروبار بھی شروع کر سکتے ہیں۔ خواتین اور مرد دونوں اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔
کھانا پکانا ایک اچھا مشغلہ بھی ہے جو لوگ اچھا کھانا پکاتے ہیں وہ بوریت کا شکارنہیں ہوتے اور کسی کے محتاج بھی نہیں رہتے. بازار کا کھانا کتنا بھی دیکھ بھال کر کھایا یا منگوایا جائے اس میں وہ محنت، پیار اور خلوص شامل نہیں ہوتا جو گھر کے بنے صاف ستھرے کھانوں میں ملتا ہے۔
مختصر یہ کہ کھانا پکانا صرف ایک گھریلو ذمے داری نہیں بلکہ ایک باقاعدہ فن اور مفید پیشہ ہے۔ اس میں مہارت حاصل کرکے انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اگر کھانا پکانے کے فن کو صفائی، محنت، معیار اور جدید کاروباری طریقوں کے ساتھ اپنایا جائے تو یہ ایک کامیاب اور باعزت روزگار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں کھانا پکانے کو ایک مفید ہنر سمجھنا چاہیے اور نئی نسل کو بھی اس فن کی تعلیم و تربیت کی طرف راغب کرنا چاہیے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔