سوشل میڈیا اور اے آئی بچوں کے لیے زحمت یا رحمت؟

پاکستان میں حکومتی و پارلیمانی سطح پر اس بارے میں قانون سازی کے لیے آوازیں تو اٹھ رہی ہیں تاہم ترجیحاتی فہرست میں شائد یہ مسئلہ کافی نیچے ہے۔


وسعت اللہ خان September 26, 2026

بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی تازہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ پانچ برس میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بارہ سے سترہ برس کی عمر کے لگ بھگ دو کروڑ بچوں کو جنسی مواد کے ذریعے ور غلانے کی کوشش ہوئی۔

ڈیڑھ کروڑ بچوں کو جان بوجھ کر جنسی مواد بھیجا گیا اور نوے لاکھ بچوں پر جنسی موضوعات پر گفتگو کے لیے دباؤ ڈالا گیایا انھیں معنی خیز تصاویر دکھائی گئیں ، تحائف کا لالچ دیا گیا اور ملنے پر اصرار کیا گیا۔جن اکیس ممالک کے بیس ہزار سے زائد بچوں کی اس سروے میں سیمپلنگ کی گئی ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق لگ بھگ پندرہ لاکھ پاکستانی بچے کسی نہ کسی شکل میں آن لائن ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں۔

سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً ساٹھ فیصد ورغلاہٹ فیس بک ، وٹس ایپ ، انسٹا گرام ، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہوتی ہے۔چودہ فیصد واقعات میں ہراسانی اور ایکسپلائٹیشن آن لائن گیمنگ کے ذریعے ہوئی۔ پچاس فیصد سے زائد ورغلانے والے رشتے دار اور دوست تھے جبکہ اڑتیس فیصد اجنبی لوگ تھے۔ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کے ذریعے ایکسپلائٹ ہونے والوں میں سے ایک فیصد سے بھی کم بچے یا ان کے والدین رہنمائی و مدد کے لیے پولیس ، کسی ہیلپ لائن یا سوشل ورکر سے رابطہ کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی بھی اب بڑے خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لگ بھگ گیارہ لاکھ بچوں کی تصویری شباہت اے آئی جنریٹڈ جنسی مواد پر مشتمل تصاویر یا وڈیوز میں استعمال ہوئی۔انھیں ایسی دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اگر ہم سے رابطہ توڑا تو گھر والوں کو مختلف ذرائع سے آگاہ کیا جائے گا کہ آپ کا بچہ آن لائن کیا کیا دیکھتا ہے۔بالخصوص بچیوں کو یہ خوف دلایا جاتا ہے کہ گھر والوں کو معلوم ہو گیا تو وہ اسکول سمیت باہر نکلنا بھی بند کر سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں میں خودکشی کے خیالات یا شدید اعصابی تناؤ کی علامات بالغوں کے مقابلے میں چار گنا زائد ہو سکتی ہیں۔بیشتر بچے انتہائی جذباتی دباؤ کے سبب چپی سادھ لیتے ہیں۔ انھیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کس سے مدد مانگیں۔یونیسیف نے ڈیجیٹل اور اے آئی کمپنیوں اور حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور ہنگامی انداز میں نمٹنے کے لیے عملی قانون سازی پر فوری دھیان دیں۔

مسئلے کی سنگینی کو سب سے پہلے آسٹریلیا نے محسوس کرتے ہوئے گذشتہ دسمبر میں سولہ برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال ممنوع قرار دے دیا۔برازیل نے اس سال مارچ میں سولہ برس سے کم عمر بچوں پر والدین کی رضامندی کے بغیر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی لگا دی۔چین نے بچوں پر آن لائن گیمنگ ، اسٹریمنگ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے کے وقت کو محدود کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

انڈونیشیا نے یو ٹیوب، انسٹا اور ٹک ٹاک سولہ سال کی عمر سے پہلے استعمال کرنا ممنوع قرار دیا ہے۔تین ماہ قبل ملیشیا نے نوعمروں کی ڈیجیٹل نظام تک کو مشکل بنانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مزید پابندیاں نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ترکی نے بھی پندرہ برس تک کے بچوں کی سوشل میڈیا تک پہنچ محدود کرنے کا قانون منظور کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اگلے برس اور برطانیہ نے دو ہزار اٹھائیس تک اس بارے میں قانون سازی کا عندیہ دیا ہے۔یورپی یونین اس مسئلے کے تدارک کے لیے اجتماعی پابندیوں کے نفاذ پر غور کر رہی ہے۔

پاکستان میں حکومتی و پارلیمانی سطح پر اس بارے میں قانون سازی کے لیے آوازیں تو اٹھ رہی ہیں تاہم ترجیحاتی فہرست میں شائد یہ مسئلہ کافی نیچے ہے۔ پنجاب اسمبلی میں سولہ برس سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے بارے میں ایم پی اے سارہ احمد نے قرار داد پیش کی ہے مگر اسے قانون بنتے بنتے وقت لگے گا۔

نیویارک کے مئیر زہران ممدانی نے پرائمری اور مڈل اسکول لیول تک کلاس رومز میں اے آئی ٹیکنالوجی کے تقریباً چالیس ٹولز استعمال کرنے پر سال بھر کی عبوری پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔یہ پالیسی آٹھویں گریڈ تک زیرِ تعلیم تقریباً چھ لاکھ بچوں پر لاگو ہو گی۔البتہ ہائی اسکول لیول پر اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی مشروط اجازت ہو گی۔ زہران ممدانی کا کہنا ہے کہ بنیادی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو حصولِ علم کے لیے انسانی شکل میں اساتذہ کی ضرورت ہے تاکہ ان میں آزادانہ سوچنے کی عادت پختہ ہو سکے۔ لاس اینجلس کی شہری انتظامیہ کا بھی کہنا ہے کہ اس بارے میں ضوابط کی تشکیل پر غور ہو رہا ہے۔

تاہم دنیا نے اب تعلیمی نظام میں اے آئی کی اہمیت جانتے ہوئے گنجائش بھی پیدا کرنا شروع کر دی ہے۔چین کے پرائمری تعلیمی اداروں میں سالانہ کم ازکم آٹھ گھنٹے اے آئی کے استعمال کو لازمی کر دیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور قطر نے اے آئی کو بتدریج نصاب میں شامل کرنے پر غور شروع کر دیا  ہے۔اگرچہ چیٹ بوٹس نے حصولِ علم میں تیزی اور آسانی پیدا کی ہے مگر جب طلبا اے آئی پر زیادہ تکیہ کرنے لگیں تو ان کی اصل قابلیت کیسے جانچی جائے؟

 اس سوال کا جواب تلاشنے کے لیے اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ اسٹارمبرگ اور یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے وکٹر لی اور ینہائی وو نے تقریباً ڈھائی برس تک گریڈ سات سے بارہ تک کے ستائیس ہزار چینی طلبا کی روزمرہ مصروفیات کا مشاہدہ کیا اور اپنی تحقیق میں ہوم ورک ، ماہانہ بلا کتاب ٹیسٹ اور نو مضامین میں داخلے کے امتحانات کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔

اگرچہ اے آئی ٹولز استعمال کرنے والے طلبا نے ہوم ورک پر پہلے سے تیس فیصد کم وقت صرف کیا اور ہوم ورک کی شرح بھی اٹھارہ فیصد تک بڑھ گئی۔مگر جب ان طلبا کو اے آئی کی مدد کے بغیر ماہانہ امتحان دینا پڑا تو ان کے نمبر پہلے کے مقابلے میں اوسطاً بیس فیصد کم آئے۔معاشی تعاون و ترقی کی یورپی تنظیم ( او ای سی ڈی ) بھی اپنی تازہ ڈیجیٹل تعلیمی رپورٹ میں کم و بیش اسی نتیجے پر پہنچی کہ اے آئی کو طلبا تعلیمی کاموں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے زیادہ استعمال کر رہے ہیں اور عملی قابلیت بڑھانے کے لیے کم۔

ووڈا فون فاؤنڈیشن کے سروے میں یورپی یونین کے سات ممالک میں بارہ تا سترہ برس عمر کے سات ہزار طلبا سے پوچھا گیا کہ وہ اسکول سے باہر اے آئی ٹولز کس طرح استعمال کرتے ہیں۔چھپن فیصد کا جواب تھا کہ وہ اے آئی حصولِ معلومات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔پینتالیس فیصد نے بتایا کہ وہ تعلیمی تصورات اور اصطلاحات زیادہ بہتر سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اکتیس فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اے آئی سے تعلیمی کام مکمل طور پر کرواتے ہیں۔صرف بیس فیصد طلبا ایسے نکلے جنھوں نے اے آئی کی مدد سے تعلیمی پلان بنایا اور اے آئی کے بجائے اپنے ذہن کو تعلیمی جوابات سوچنے کے لیے استعمال کیا اور پھر ان جوابات کا موازنہ اے آئی کی فراہم کردہ معلومات سے کرکے اپنی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)