امریکا کے ساتھ جنگ کیلئے تیار ہیں لیکن سفارتکاری کی کوشش کر رہے ہیں، عباس عراقچی

ڈونلڈ ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ سفارت کاری اور جنگ میں سے کون سے میدان کا انتخاب کرتے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ


ویب ڈیسک September 27, 2026
فوٹو: این بی سی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن سفارت کاری کے لیے دروازہ کھلا ہوا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ ایران کسی قسم کی نئی جارحیت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے یہاں تک کہ قیامت خیز جنگ ہی کیوں نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم سفارت کاری کے لیے بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں اور یہ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب پر منحصر ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی وفد نے رواں ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ملاقاتوں کے دوران اور غیررسمی انٹرویوز میں سفارت کاری کے ہر پہلو کو آزمایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام اس کے برعکس رہا ہے تاہم ٹرمپ کے بیان کے باوجود سرکاری سطح پر ایران کو ثالثوں کے ذریعے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں ایران کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدترین حملے کیے جائیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کیے گئے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار تھا اور تہران چاہتا تھا کہ اس کے منجمد اثاثے اور فنڈز بھی واپس کیے جائیں اور تیل کی فروخت کی اجازت دی جائے۔

عباس عراقچی نے پاکستان کی ثالثی میں رواں برس جون میں اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمتی یاد داشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شرائط نئی نہیں تھیں بلکہ امریکا کی جانب سے اس سے پہلے کیے گئے وعدوں کا حصہ تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہم سے پوچھ رہے ہیں تو سفارت کاری کی طرف واپس جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن میں تاحال سفارت کاری کی کوشش کر رہا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں ہمیں امن کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، ہم اپنے قومی مفادات کا خیال کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کو مذاکرات کے ذریعے حل نہ نکالنے کی صورت میں بدترین نتائج کی دھمکی دی تھی تاہم ساتھ انہوں نے کہا تھا کہ امریکا میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے بعد معاہدے کا امکان ہے۔

عباس عراقچی نے اس بیان پر کہا تھا کہ احترام اور انصاف کی بنیاد پر اور اور ایرانی عوام کے جائز حقوق و مطالبات کا مذاکرات کے ذریعے حل کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران پہلے ہی عسکری، سفارتی، معاشی شعبے اور پابندیوں کا مقابلہ کرکے دنیا کے سامنے اپنی طاقت کا اظہار کرچکا ہے۔