خطاب کی گونج

وزیر اعظم عالمی حالات اور سیاست کی حرکیات کی فہم سے محروم دانش وروں سے مشورہ کرتے وہ تو یہی کہتے کہ لعنت بھیجو امریکا پر، اس نے تو بھارت کو بچا لیا ہے


ڈاکٹر فاروق عادل September 28, 2026
[email protected]

وزیر اعظم شہباز شریف نیو یارک سے لوٹ چکے ہیں لیکن ان کے خطاب کی گونج باقی ہے۔ کیوں؟ یہ سوال اہم ہے لیکن براہ راست اس سوال پر غور کرنے سے قبل ضروری ہے کہ جنرل اسمبلی میں ان کے خطاب کا جائزہ لے لیا جائے ۔وزیر اعظم کا نسبتاً طویل خطاب چند اہم موضوعات کے گرد گھومتا ہے:

1 ۔مکہ دفاعی معاہدے کی ضرورت، اہمیت اور دائرہ کار۔

2 ۔ امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کا کردار جو اسلام آباد ایم او یو سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے جس کے مظاہر جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھی دیکھے گئے۔

-3 فلسطین کا المیہ۔ وزیر اعظم کے خطاب کا وہ حصہ جس میں غزہ میں نسل کشی کا ذکر تھا، دل کو چھو لینے والا تھا۔ انھوں نے کسی شاعر کی طرح اپنے دل کا درد جس انداز میں پیش کیا، اس پر میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے، والا مصرع صادق آتا ہے۔

4۔ان کے خطاب کا ایک اور اہم نکتہ وہ تھا جس میں بھارت کے طرز عمل کو بے نقاب کیا گیا۔ وزیر اعظم نے نہایت موثر انداز میں بھارت کی پالیسیوں اور اقدامات کو بے نقاب کیا جن کی وجہ سے خطے کا امن خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔

وزیر اعظم نے انڈس واٹر ٹریٹی کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کے بھارتی اقدام کو بھی موثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کر کے بھارتی طرزِ عمل سے پردہ اٹھایا۔

5۔ افغانستان کی موجودہ عبوری انتظامیہ کے غیر ذمے دارانہ طرز عمل کی وجہ سے خطے میں جو عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے، وزیر اعظم نے اسے بھی مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جس سے عالمی برادری کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ جب تک افغانستان میں غیر ذمے دار عناصر کو کھلی چھوٹ ملی رہے گی، ایشیا بے چین رہے۔

6۔ پاک چین اقتصادی راہ داری شاہ راہ ریشم کے خطے بلکہ پوری دنیا اقتصادی استحکام اور خوش حالی کی ضامن بن سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان اور چین کے اس منصوبے کی افادیت کو موثر طریقے سے بیان کیا بلکہ بالواسطہ طور پر دنیا کو اس میں شریک ہو جانے کی دعوت بھی دی۔

وزیر اعظم نے ان اہم موضوعات کے علاوہ ماحولیات سمیت ترقیاتی مسائل کو بھی کامیابی کے ساتھ اجاگر کیا جو وقت کی اہم ترین ضرورت تھی۔ جنرل اسمبلی کے اہم عالمی واقعے کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف شاید واحد عالمی راہ نما ہیں جن کے خطاب کا ایک حصہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا ہے۔ اس پر بعض دانش وروں نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکی صدر کی طرف سے پاکستان اور وزیر اعظم شہباز شریف کو اہمیت ملنا فخر اور اطمینان کی بات ہے یا تشویش کی؟

صحافت میں زندگی گزار دینے والے صحافیوں اور دانش وروں کی طرف سے جب اس قسم کی باتیں کی جاتی ہیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ آج ہماری صحافت اس قدر زبوں حالی کا شکار کیوں ہو چکی ہے۔ اس قسم کے سوالات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لوگ دنیا کو سمجھتے ہیں اور نہ سیاست کو۔ سیاست کی خوب صورتی یہ ہے کہ آپ اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے طاقت کے اہم مراکز کو اپنا ہم خیال بنا لیں یا کم از کم دشمنی سے باز رکھیں۔ گزشتہ 80 برس کے دوران پاکستان میں بہت سے قائدین آئے اور گئے لیکن ہمیں شکایت ہی رہی کہ امریکا ہمارا موقف سمجھتا ہے اور نہ عالمی امتیازی رویوں سے بچانے کے لیے اپنا وزن ہمارے حق میں استعمال کرتا ہے۔ ماضی قریب کی تاریخ میں وزیر اعظم شہباز شریف واحد پاکستانی وزیر اعظم ہیں جنھوں نے اس معاملے میں کام یابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعظم کی یہ ایسی کام یابی ہے جس کی مثال مدتوں یاد رکھی جائے گی۔

کیا وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کام یابی کے لیے اپنے مؤقف پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ اس تقریر کا جائزہ لیا جائے یا موجودہ بلکہ پی ڈی ایم کی حکومت سے لے کر اب تک کی خارجہ پالیسی اور اس ضمن میں پاکستان کی پیش رفت بلکہ فتوحات پر نظر دوڑائی جائے تو حکومت کا کوئی مخالف بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حکومت نے پاکستان کے اصولی اور تاریخی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ کیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان اپنے تاریخی اور اصولی موقف پر جما ہوا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ اتنے مہربان کیوں ہیں؟ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر وزیر اعظم کے دورہ نیو یارک اور ان کی تقریر کے تعلق سے یہی سوال اہم ہے اور سوال جو مختصر لیکن جامع جواب یہ ہے کہ یہی سیاست ہے۔

یہاں سیاست کی مبادیات پر گفتگو کی ضرورت نہیں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ سیاست بھی انسانی رشتوں کی طرح ہوتی ہے۔ آپ اخلاق سے کام لے کر، کسی کی کسی خوبی کو تسلیم کر کے یا اس کا کوئی کریڈیٹ تسلیم کر کے اس کے دل میں اپنے لیے نرم گوشہ پیدا کر سکتے ہیں اور اس کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے یہی کیا ہے اور پاکستان کے موقف پر قائم رہتے ہوئے حاصل کیا ہے۔ کیسے؟ یہ سوال اہم ہے۔

 مئی 2025 میں بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو اس موقع پر امریکا اور اس کے صدر ٹرمپ بھی ان عالمی راہ نماؤں میں شامل تھے جو سمجھتے تھے کہ پاکستان کو اس بھارتی جارحیت کو نیو نارمل سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے۔ اس ضمن میں ان کی طرف سے کچھ بیانات بھی آئے تھے لیکن پاکستان نے جب بھارت کی پٹائی کر دی تو اس موقع پر ٹرمپ آگے بڑھے اور انھوں نے جنگ بندی کرا دی۔ نشیب و فراز رکھنے والی پاک امریکا تعلقات کی تاریخ میں یہی سب سے اہم لمحہ تھا جسے پکڑ کر تاریخ کو تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ وزیر اعظم نے یہی کیا۔

وزیر اعظم عالمی حالات اور سیاست کی حرکیات کی فہم سے محروم دانش وروں سے مشورہ کرتے وہ تو یہی کہتے کہ لعنت بھیجو امریکا پر، اس نے تو بھارت کو بچا لیا ہے۔ وقتی اور جذباتی انداز فکر تو یہی ہے لیکن ملک ایسے نہیں چلتے۔ بہت کچھ دیکھ اور سمجھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہی کیا لیکن نریندر مودی اپنے تکبر میں اس نادر لمحے کو سمجھ سکے اور نہ پکڑ سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے جنگ بندی کے لیے امریکا کو دہائی دی تھی لیکن امریکا نے جنگ بندی کرا دی تو روایت کے مطابق بھارت کا تکبر غالب آ گیا۔ اس نے صدر ٹرمپ کو ان کا جائز کریڈیٹ دینے سے انکار کر دیا جب کہ پاکستان نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو نہ صرف اس کا کریڈٹ دیا بلکہ عالمی جنگ کے امکانات کا خاتمہ کر کے لاکھوں جانیں بچانے کے کارنامے پر انھیں نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد کر دیا۔ یہی سیاست ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کشمیر، افغانستان، فلسطین اور مشرق وسطی کی حالیہ جنگ کے معاملات میں اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے امن کا ایسا محافظ بن چکا ہے جس کی اہمیت صرف امریکا کی نہیں بلکہ چین روس اور دنیا کی دیگر قوتیں بھی تسلیم کر رہی ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ سیاست جذبات کا کھیل نہیں بلکہ دانش مندی اور وقت کی اہمیت کو پہچان کر درست وقت پر درست اقدام کرنے کا کھیل ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے یہی سیاست کی ہے جس کے ثمرات پاکستان کو مل رہے ہیں۔ یہی پس منظر ہے جس کی وجہ سے جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم پاکستان کے خطاب کی گونج سنائی دے رہی ہے۔