اب اتنی سخت باتوں پر سخت گیر طبقے کا پارہ تو چڑھنا ہی تھا۔ ان میں کچھ ایسے بھی نکلے کہ شاہ کی پولیس سے کہا کہ اس فتنہ پھیلانے والوں کو روکو اور پھر اس فتنے کو روکنے کا وقت آ گیا۔ 1973 میں شاہ کا صبر بھی جواب دے گیا۔ اس کی سیکرٹ پولیس نے حسینیہ ارشاد سیل کر دیا۔ علی شریعتی روپوش ہوگئے۔ پھر ایک چال چلی گئی۔ ان کے والد کو پکڑ لیا گیا۔ یہ بات کونسا شریف آدمی برداشت کرے گا کہ وہ چھپتا پھرے اور اس کا بوڑھا باپ جیل میں بیٹھا ہو۔ علی شریعتی 2 مہینے روپوشی کے بعد منظر عام پر آگئے۔
انھیں گرفتار کر کے کسی عام جیل میں نہیں بلکہ بدنام زمانہ ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا۔ 18مہینے تک علی شریعتی قید تنہائی میں رہے۔ انھیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک چھوٹی سی کوٹھری میں جہاں نہ دن کا پتہ چلتا تھا نہ رات کا۔ اس کا مقصد صرف مارنا پیٹنا نہیں تھا بلکہ توڑنا تھا۔ سرکار چاہتی تھی کہ شریعتی ٹی وی پر آئیں اور کہیں کہ میں غلط تھا شاہ صحیح ہے۔ تنہائی اب ان کی بہترین دوست تھی۔ انھوں نے جیل کی دیواروں پر کوئلے سے لکھنا شروع کر دیا۔ یہ قید اس وقت تک چلتی رہی جب تک انٹرنیشنل پریشر نہیں آیا۔
ہوا یہ کہ شاہ ایران 1975میں الجزائر کے دورے پر گئے۔ وہاں سرکاری طور پر ان سے علی شریعتی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ الجزائر جنگ آزادی والا احسان نہیں بھولا تھا۔ علی شریعتی کو رہا کر دیا گیا۔ لیکن یہ رہائی نہیں ایک چھوٹی جیل سے بڑی جیل میں شفٹنگ تھی۔ ساواک کے ایجنٹ 24 گھنٹے ان کے گھر کے باہر گھومتے رہتے۔ ان کے پڑھانے پر پابندی، ان کے لکھنے پر پابندی، تقریر پر پابندی، ملنے ملانے پر پابندی۔ ایک دانشور کے لیے اس کے الفاظ چھین لینا، ایک مقرر کے لیے اس کے سامعین کو چھین لینا، ایک ادیب کے لیے اس کے قاری چھین لینا۔ شریعتی کا دم گھٹ رہا تھا۔ وہ جانتے تھے اگر وہ ایران میں یونہی رہے تو گھٹ گھٹ کر مر جائیں گے یا ساواک انھیں کسی حادثے میں مار دے گی۔ انھیں بولنا تھا۔ اپنا مشن پورا کرنا تھا۔
حالات بدل رہے تھے۔ ایک کے بعد دوسرا واقعہ پیش آ رہا تھا۔ تب شاہ نے حالات کو قابو میں لانے کے لیے ایک فیصلہ کر لیا۔ علی شریعتی کو تین سال کی نظر بندی کے بعد رہا کر دیا گیا۔ انھیں پاسپورٹ دیا گیا تاکہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں اور ایسے وقت میں جب حکومت پر پریشر بڑھ رہا تھا کم از کم ایک طرف تو سکون کا سانس ملے۔ نظر بندی ختم ہوتے ہی علی شریعتی انگلینڈ چلے گئے اکیلے۔ لیکن وہ اکیلے نہیں تھے۔ ان کے ساتھ کوئی اور بھی سفر کر رہا تھا۔ ان کی موت ۔ شریعتی نے ایک بار کہا تھا موت ہر ہر لحظہ گھات میں لگی ہوئی ہے۔ میں نے اس کے ساتھ زندگی بسر کرنا سیکھ لیا ہے۔ مگر اس وقت مجھے مرنا قبول نہیں۔ ابھی بہت سا کام باقی پڑا ہے۔ لوگوں کی آنکھیں جو مجھے اپنی زندگی سے کہیں زیادہ عزیز ہیں۔ میرا انتظار کر رہی ہیں۔
علی شریعتی ایران سے نکل کر لندن پہنچے اور وہاں سے ساؤتھ تمپٹن چلے گئے۔ بیگم اور بیٹیاں ایران میں ہی تھیں۔ وہ اکیلے تھے۔ بے چین تھے اور شاید خوفزدہ بھی۔ کیونکہ ساواک کے ہاتھ بہت لمبے تھے ۔ اور 19جون 1977 کی صبح شریعتی اپنے کمرے کے دروازے پر مردہ پائے گئے۔ لندن پہنچنے کے صرف اور صرف تین ہفتے بعد۔ ان کی عمر کیا تھی۔ صرف 43 سال ۔ برٹش پولیس آئی۔ ایک بہت ہی عجیب رپورٹ دی۔ دل کا دورہ۔ ایک صحت مند انسان جس کو دل کی بیماری کی کوئی ہسٹری نہیں تھی۔ اچانک خاموشی سے کیسے مر سکتا ہے۔ ذرا حالات دیکھیں۔ شاہ کا تخت ڈول رہا تھا۔ وہ اسے بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔ اور اسے دنیا کی سپر پاورز کی طرف سے اس کی پوری اجازت بھی تھی۔
اس کی سیکرٹ پولیس کے پاس ایک ہٹ لسٹ تھی۔ اور شریعتی کا نام اس میں سب سے اوپر تھا۔ ساواک کا طریقہ کار کیا تھا۔ وہ گولی نہیں مارتے تھے۔ وہ حادثات بناتے تھے۔ کبھی کار ایکسیڈنٹ کبھی ڈوب کر موت اور کبھی اچانک ہارٹ اٹیک۔ شریعتی کے چاہنے والے آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ساواک ایجنٹوں نے انھیں زہر دیا ہے۔ یا کوئی ایسا کیمیکل استعمال کیا جس کا سراغ پوسٹ مارٹم میں نہیں ملتا۔ لیکن سب سے بڑا سوال برٹش گورنمنٹ نے پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کیا۔ کیا شاہ ایران کے دباؤ میں آ کر تحقیقات دبا دی گئیں۔ پھر لاش کو اتنی جلدی ریلیز کیوں کر دیا گیا۔ یہ سب اشارے ایک ہی طرف جا رہے تھے کہ یہ قتل تھا۔
یہاں ایک اور ڈراما کرنے کی کوشش کی گئی۔ شاہ چاہتا تھا کہ شریعتی کی لاش ایران لائی جائے اور وہ خود سرکاری اعزاز کے ساتھ اسے دفن کرے تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ دیکھو میں تو شریعتی کی عزت کرتا تھا۔ وہ ان کے جنازے کو بھی اپنے پروپیگنڈے کے لیے ہائی جیک کرنا چاہتا تھا۔ لیکن شریعتی کے دوستوں اور فیملی نے یہاں بھی شاہ کو ہرا دیا انھوں نے لاش ایران لانے سے انکار کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر یہ لاش ایران لائی گئی تو شاہی مزار کا حصہ بن جائے گی۔ اس لیے انھوں نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ جنازہ لندن سے تہران نہیں شام کے کیپٹل دمشق لے جایا گیا۔ دمشق وہ شہر جہاں حضرت بی بی زینب کا مزار ہے۔ شریعتی تمام زندگی جس سرخ شریعت کی بات کرتے رہے۔ تقدیر نے انھیں اسی بی بی کے قدموں میں جگہ دے دی جو کربلا کی سب سے بڑی گواہ تھیں۔