برطانوی پولیس نے مغربی انگلینڈ میں امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال فیئرفورڈ ایئربیس کے قریب دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد سے متعلق الزامات میں گرفتار پانچ افراد کو ضمانت پر رہا کردیا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس کے سربراہ لارنس ٹیلر کے مطابق پانچوں افراد برطانوی شہری ہیں اور لندن سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں مشتبہ گاڑیوں کی اطلاع ملنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ مشتبہ افراد تین گاڑیوں میں موجود تھے اور ان کے خلاف Explosives Act اور دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری سے متعلق تحقیقات کی جارہی ہیں۔
پولیس کے مطابق پانچوں افراد کو طویل پوچھ گچھ اور دیگر تحقیقات کے بعد سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔
لارنس ٹیلر نے واضح کیا کہ رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ تحقیقات ختم ہوگئی ہیں، بلکہ مشتبہ افراد بدستور تفتیش کے دائرے میں ہیں اور ان کی نقل و حرکت اور بعض افراد سے رابطوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
برطانوی حکام ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے کہ مبینہ منصوبے کے پیچھے کسی غیر ملکی حکومت کا ہاتھ تھا یا نہیں۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہی ہے، جن میں ایران، روس یا کسی غیر ریاستی مسلح گروہ سے ممکنہ تعلق بھی شامل ہے۔ تاہم پولیس نے اب تک ایران کو ان گرفتاریوں سے براہِ راست منسلک نہیں کیا۔
دوسری جانب لندن میں ایرانی سفارتخانے نے مبینہ منصوبے میں ایران کے ملوث ہونے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ ایرانی سفارتخانے کے مطابق ایسی قیاس آرائیاں برطانیہ میں ’’ایران مخالف پروپیگنڈے‘‘ کو فروغ دیتی ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایئربیس کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ برطانوی پولیس کو اتوار کے روز ایئربیس کے قریب تین مشتبہ گاڑیوں کی اطلاع ملی، جس کے بعد مسلح اہلکاروں نے کارروائی کی اور علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی۔ قریبی علاقے کے 85 گھروں کو بھی عارضی طور پر خالی کرایا گیا تھا۔