عراق میں صدام حسین کی گرفتاری اور پھانسی کے وقت سے تعینات امریکی افواج بالآخر واپس چلی گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی افواج 30 سمتبر بروز بدھ تک عراق میں اپنے آخری اڈے بھی خالی کرنے والی تھیں جس کے بارے میں 2024 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں طے کیا گیا تھا۔
تاہم آج مقررہ قت سے ایک روز قبل ہی امریکا نے اپنے بقیہ تقریباً ڈھائی ہزار فوجیوں اور جنگی اثاثوں کو عراق سے نکالنے کا عمل مکمل کر لیا جب کہ آخری امریکی فوجی اڈوں کا کنٹرول بھی عراقی فورسز کے حوالے کر دیا۔
اس سے قبل عراق کے فوجی اڈوں جیسے عین الاسد اور بغداد سے امریکی فوجیوں اور اثاثوں کا انخلا پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا۔ آخری مرحلے میں نیم خودمختار کردستان کے علاقے اربیل ہوائی اڈے سے بھی امریکی دستے روانہ ہو گئے ہیں۔
عراقی وزارت دفاع کے ترجمان نے الجزیرہ کو تصدیق کی ہے کہ عراق میں اب اتحادی افواج کا کوئی دستہ موجود نہیں، آخری بیس بھی خالی کردیا گیا تاہم امریکا اور عراق کے درمیان فوجی و سیکیورٹی تعاون جاری رہے گا۔
خیال رہے کہ امریکی فوج پہلے 2011 میں عراق سے نکل گئی تھی تاہم داعش کے خلاف جنگ کے لیے 2014 میں دوبارہ واپس آئی تھیں اور امریکی قیادت میں اتحادی فوج کی فضائی، انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد کی تھی۔
2003 میں صدام حسین حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق پر امریکی حملے کے بعد اور پھر داعش کے خلاف جنگ میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران تقریباً ساڑھے چار ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا سے ایران اور اس کے اتحادی عراقی مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ میں اضافے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے جبکہ بعض عراقی سیکیورٹی حکام کو داعش کے دوبارہ منظم ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
ادھر عراقی اور کرد سیکیورٹی حکام نے بھی حالیہ ہفتوں میں امریکی فوج کے انخلا کے عمل کے شروع ہوتے ہی داعش کے سلیپر سیلز کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب ایران کا امریکی افواج کے انخلا کو اپنے اتحادی گروہوں کے لیے کامیابی قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ عراق اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے سے خطے میں طویل مدتی سلامتی کی راہ ہموار ہوگی۔
واضح رہے کہ امریکی افواج کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد اہلکار صدام حسین کیخلاف 2003 سے 2011 تک عراق میں رہے جب کہ داعش کے خلاف کارروائی کے نام پر 2014 میں ساڑھے پانچ ہزار امریکی فوجی دوبارہ تعینات ہوئے جن میں سے ڈھائی ہزار کو 2020 میں واپس بلالیا گیا تھا۔