تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد مارچ کا حتمی فیصلہ کرتے ہوئے تمام ارکان اسمبلی، پارٹی عہدیداروں، ذیلی تنظیموں کو تیاری کی ہدایات جاری کردیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر سے مؤخر کیے گئے لانگ مارچ کو مزید ملتوی نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کردہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اس حوالے سے ارکان اسمبلی، عہدیداروں، ذیلی تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ لانگ مارچ کی مکمل تیاری کریں جبکہ اس حوالے سے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق 2 اکتوبر کو لانگ مارچ کا شیڈول جاری کیا جائے گا جبکہ وزیراعلی کی سربراہی میں قافلہ پشاور سے روانہ ہوگا اور صوابی میں پڑاؤ کرے گا جہاں سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا،ْ
وزیراعلی سہیل آفریدی نے ہدایت کی ہے کہ لانگ مارچ پرامن ہوگا، کارکن اور ارکان اسمبلی دو ہاتھ اور دو پاؤں لیکر جائیں گے، غلیلیں، ڈنڈے اور بندوقیں لے کر نہیں جائیں گے جو انتشار کی کوشش کریں انھیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
چار اکتوبر کو لانگ مارچ کے حوالے سے تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی، ڈویژنل تنظیموں، عہدیداروں کا اجلاس وزیراعلی سہیل آفریدی کی صدارت میں ہوا اجلاس میں سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں لانگ کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور آئیں وزیراعلی کو جنوبی اضلاع سے بھی مارچ شروع کرنے کی تجویز دی۔ وزیراعلی نے بتایا کہ حتمی شیڈول دو اکتوبر کو دیا جائے گا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور سے قافلہ روانہ ہوگا جس کا پہلا پڑاؤ نوشہرہ جبکہ اس کے بعد دوسرا پڑاؤ صوابی میں ہوگا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے اپنی صفوں میں موجود بعض عناصر سے متعلق شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری صفوں میں میر جعفر اور میر صادق موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے ارکان اسمبلی کو ذمہ داریاں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعلی نے بی آر ٹی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بار ہر وہ پالیسی تبدیل ہوگی جس سے صوبہ کو نقصان پہنچے اگر ضرورت پڑی تو بغاوت کرینگے مگر ایسی پالیسی قبول نہیں کرینگے، 4 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہوگا، یہ عہدے اور کرسی اس کے لئے معنی رکھتی ہے جس کے اپنے مفاد ہوں ہم ڈر کر پیچھے ہٹنے والے نہیں۔