سردی کی ایک طویل رات تھی۔
برف مسلسل گر رہی تھی اور جنگل سفید کفن اوڑھ چکا تھا۔ درختوں کی شاخیں جم گئی تھیں، پانی پتھر ہو چکا تھا اور ہوا ایسی تھی جیسے کسی نے چھریاں تیز کرکے فضا میں چھوڑ دی ہوں۔ اسی جنگل کے ایک کونے میں خارپشتوں کا ایک غول زندگی بچانے کی کوشش کر رہا تھا،وہ ایک دوسرے کے قریب آئے۔جسموں کی حرارت نے سردی کا زور توڑا، مگر مصیبت یہ ہوئی کہ قریب آتے ہی ایک دوسرے کے کانٹے بدن میں چبھنے لگے۔ تکلیف بڑھی تو سب دور ہٹ گئے۔ کانٹوں سے نجات مل گئی، لیکن اب سردی مارنے لگی۔
وہ پھر قریب آئے۔
پھر کانٹے چبھے۔
پھر دور ہوئے۔
پھر سردی لگی۔
آخر ایک مقام ایسا آیا جہاں انھوں نے نہ مکمل قربت اختیار کی، نہ مکمل جدائی۔ بس اتنا فاصلہ رکھا کہ ایک دوسرے کی حرارت بھی ملتی رہے اور کانٹے بھی جان لیوا نہ بنیں۔ (بہ قول عبیداللہ علیم، عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے۔)
جرمن فلسفی آرتھر شوپن ہاور نے انسانی رشتوں کی پیچیدگی سمجھانے کے لیے خارپشتوں کی یہ تمثیل بیان کی تھی۔
مجھے لگتا ہے اکیسویں صدی میں اس کہانی کے دو سب سے بڑے خارپشت امریکا اور چین ہیں۔
دونوں کے پاس کانٹے ہیں۔
ایک کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور روایتی معاشی و عسکری قوت، ڈالر، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی اداروں میں تاریخی اثر و رسوخ ہے۔ دوسرے کے پاس ایک دیوہیکل پیداواری ڈھانچہ، وسیع منڈی، صنعتی سپلائی چین، تکنیکی صلاحیت اور عالمی تجارت میں گہری جڑیں ہیں۔یہ دونوں ایک دوسرے کو پسند نہ بھی کریں، ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو سکتے۔ یہ ہمارے عہد کا ایک بڑا تضاد ہے۔
دراصل سرمایہ دارانہ نظام میں سیاسی سرحدیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں، کارپوریٹ مفادات ہی سب سے بالا ہوتے ہیں۔ آج کل برکس کی توسیع اور ڈالر کے مقابلے میں چینی کرنسی کو ایک متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ہم اس بیانیے کو ایک سراب سمجھتے ہیں۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ہو یا افریقا اور ایشیا میں اس کی سرمایہ کاری، یہ سب تیسری دنیا کو قرضوں کے جال میں پھنسا کر وہاں سے خام مال نکالنے کا جدید استعماری حربہ ہے۔ چین کا مالیاتی دباؤ، امریکی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے کچھ مختلف نہیں، بس اس کی شکل تبدیل ہے۔
دنیا گزشتہ برسوں میں امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، چِپ پابندیاں، ٹیرف، مالیاتی دباؤ، تائیوان، بحیرہ جنوبی چین، نایاب معدنیات اور مصنوعی ذہانت کی دوڑ دیکھ چکی ہے۔ پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق تمام ٹیرف اور تجارتی پابندیوں کے باوجود امریکی درآمدات کی مجموعی ویلیو ایڈڈ میں چین کا حصہ قریباً دو فیصد کم ہواہے۔یہ عدد بظاہر چھوٹا ہے، مگر اس کے اندر ہمارے زمانے کا ایک بہت بڑا سبق چھپا ہے۔دنیا گزشتہ برسوں میں امریکا اور چین کی تجارتی جنگ، ٹیرف، چِپ پابندیوں، تائیوان، نایاب معدنیات اور مصنوعی ذہانت کی کشمکش کو محض دو ریاستوں کی باہمی رقابت سمجھتی رہی ہے، مگر ہماری نظر میں یہ دراصل عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے اندر طاقت، پیداوار، ٹیکنالوجی، مالیات اور تراکم سرمایہ کے نئے مراکز کی تشکیلِ نو ہے۔
اگرچہ امریکا نے چینی مصنوعات کی براہِ راست درآمدات کم کرنے میں پیش رفت کی، مگر چین کو عالمی پیداواری زنجیروں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوا، ’’چین سے درآمد کم ہونا‘‘ اور ’’چین پر معاشی انحصار ختم ہونا‘‘ ایک ہی بات نہیں۔ پیداوار و تجارت کے راستے چین سے ویت نام، میکسیکو اور دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں، مگر چینی پرزوں، مشینری، خام مال اور صنعتی صلاحیت کا کردار برقرار رہ سکتا ہے۔ یوں دو فی صد کی معمولی کمی ہمارے خیال سے دراصل صرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ داری قومی سرحدوں سے زیادہ عالمی تقسیم محنت اور باہم مربوط پیداواری نظام میں حرکت کرتی ہے۔ امریکا اور چین کی موجودہ سرد جنگ دراصل ایک ہی بت (سرمایہ) کے دو پجاریوں کی جنگ ہے۔ دو فی صد کا معمولی فرق یہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ دونوں کی بقا ایک دوسرے سے جڑی ہے۔
امریکا اور چین میں سے کون غالب ہوگا، یہاں یہ بنیادی سوال نہیں، بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کا مرکز بدلنے سے معاشی عقلیت بھی بدل جاتی ہے؟ امریکا مالیاتی، تکنیکی، ڈالر اور عالمی ادارہ جاتی طاقت کے ذریعے اپنی مرکزیت محفوظ کررہا ہے، جب کہ چین صنعتی پیداوار، عالمی سپلائی چین، نایاب معدنیات اور ریاستی ہم آہنگی کے ذریعے اپنا مقام مضبوط کررہا ہے، مگر دونوں کی کشمکش بڑی حد تک سرمایہ، پیداوار، مسابقت اور تراکم کے اسی عالمی نظام کے اندر جاری ہے۔ چنانچہ چین کا امریکا کو پیچھے دھکیلنا لازماً سرمایہ داری کی شکست نہیں، جیسے امریکا کا چین کو محدود کرنا سرمایہ داری کی فتح نہیں۔فرض کیجیے اگر واشنگٹن کی جگہ بیجنگ عالمی معاشی مرکز بن جائے، مگر انسان، ملکیت، دولت، پیداوار اور تراکم کے بنیادی تصورات وہی رہیں، تو کیا واقعی کوئی تہذیبی تبدیلی واقع ہوئی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ’’امریکا بمقابلہ چین‘‘ کی بحث ختم اور سرمایہ دارانہ معاشی عقل کے مقابل ایک حقیقی متبادل کا سوال شروع ہوتا ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان جاری چِپ وار، تائیوان کا تنازع، یا بحیرہ جنوبی چین میں صف آرائی کسی نظریاتی، اخلاقی یا تہذیبی اختلاف کا نتیجہ نہیں ہے۔ چین کوئی ’’انسانیت دوست‘‘ متبادل نہیں ہے، بلکہ وہ خود ایک ریاستی سرمایہ دارانہ طاقت ہے۔ دونوں ممالک کا ہدف ایک ہی ہے، عالمی منڈیوں پر اجارہ داری اور سرمائے کے نئے ذرائع جیسے اے آئی اور نایاب معدنیات پر مکمل کنٹرول۔ یہ کشمکش بالکل ویسی ہی ہے جیسی پہلی جنگ عظیم سے قبل برطانیہ اور جرمنی کے مابین عالمی وسائل کی بندر بانٹ پر تھی۔ دونوں طرف کی مادی ترجیحات یکساں ہیں۔
سرمایہ دارانہ عالمی نظام اپنے اندرونی تضادات و مسابقت کے باعث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے ،جہاں مالیاتی طاقت، پیداواری طاقت، تکنیکی طاقت، معدنی طاقت اور ریاستی طاقت دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ رہی ہیں۔ بات یہ نہیں کہ اس نئی ترتیب میں کون سا سرمایہ دارانہ مرکز غالب آئے گا، بات یہ ہے کہ تیسری دنیا کے لیے اس میں کیاسبق ہے؟ واقع یہ ہے کہ چین کی طرف جھکاؤ سے انھیں امریکی سامراج سے آزادی نہیں ملے گی، بلکہ وہ محض ایک آقا کو چھوڑ کر دوسرے آقا کی معاشی غلامی میں چلے جائیں گے۔ حقیقی آزادی تب تک ممکن نہیں، جب تک اس پوری عالمی سرمایہ دارانہ معیشت، اس کے اداروں اور اس کی صارفانہ ثقافت کا بنیادی طور پر انکار کر کے ایک مختلف معاشی اور ریاستی ماڈل نہ کھڑا کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی تہذیب اس پوری معاشی عقلیت ہی کو چیلنج کرنے کی فکری و عملی صلاحیت رکھتی ہے یا پیدا کرسکتی ہے؟