واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایران امریکا کے سامنے کب گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گا۔
وائٹ ہاؤس میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں ابھی ہتھیار ڈالنے والا ہے یا نہیں تاہم ان کے بقول ایران کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔
امریکی صدر نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ اقتدار میں موجود ہیں کم جونگ اُن ٹھیک رہیں گے۔
اس موقع پر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی برتری برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اے آئی میں نمایاں سبقت حاصل ہے اور وہ اس برتری کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ عہدیداروں کے ہمراہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک دستاویز پر دستخط بھی کیے۔
انہوں نے اس دستاویز کو تحفظ کی ایک صورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے شعبے کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خود احتسابی کا ایک مؤثر عمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس صنعت سے وابستہ رہنما بھی اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ ملاقات میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے موزوں مقامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق جن علاقوں میں یہ مراکز تعمیر کیے جائیں گے وہاں کے مقامی لوگوں کو مالی طور پر بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچے گا۔