پمز سانحے سے متعلق اندراج مقدمہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

پولیس کی جانب سے اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کی استدعا


ویب ڈیسک October 01, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے پمز سانحہ کی ایف آئی آر درج کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سیشن جج راجہ آصف نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔ پولیس کی جانب سے اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی گئی۔

ریاض حنیف ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ پمز واقعہ ساری دنیا کے سامنے ہیں اور قیمتی جانیں گئی ہیں، وزیر اعظم کی جانب سے کس قانون کے تحت انکوائری کمیٹی بنائی گئی، کابینہ کی منظوری کے بغیر کسی انکوائری کمیٹی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

درخواست گزار وکیل نے دلائل دیے کہ جاں بحق بچوں کی دیت 50 لاکھ روپے جبکہ نرس کو کروڑ روپیہ انعام دے دیا گیا، پولیس قانون کے بجائے حکومتی پالیسی پر چل رہی ہے۔

جج راجہ آصف نے استفسار کیا کہ اس طرح کی کوئی اور درخواست کسی اور عدالت میں تو نہیں ہے۔

ریاض حنیف راہی نے بتایا کہ اندراج مقدمہ کی نہیں لیکن کارروائی کے حوالے سے 5 رٹ پٹیشنز دائر ہوئی ہیں۔ جج نے ہدایت کی کہ تمام پٹیشنز کا نمبر دے دیں، آپ کی درخواست پر آرڈر جاری کرو‌ں گا۔

عدالت نے پمز واقعے پر اندراج مقدمہ کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔