اکتوبر شروع ہوچکا ہے۔ لاہور کے باسیوں کو ایک بار پھر سموگ کے موسم کا سامنا کرنا ہوگا۔ گزرے ہوئے ستمبر پر نظر ڈالیں تو آنے والے دنوں کی ایک جھلک ابھی سے دکھائی دینے لگی ہے۔
سردی ابھی پوری طرح نہیں آئی، دھند نے ابھی شہر کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا، لیکن لاہور کی ہوا نے آلودگی کے رنگ دکھانا شروع کردیئے ہیں۔ ستمبر کے آخری ہفتے میں شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس کئی مرتبہ غیر صحت بخش سطح تک پہنچا۔ گویا سموگ نے آنے سے پہلے ہی اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا۔
لاہور کی یہ صورت حال بظاہر ایک بڑے شہر کا مقامی مسئلہ ہے، مگر ذرا غور کریں تو اس میں پورے پاکستان کی ایک تصویر نظر آتی ہے۔ لاہور میں آلودہ ہوا، سندھ میں شدید گرمی، بلوچستان میں بارش کے بدلتے انداز، خیبر پختونخوا میں موسموں کی تبدیلی اور شمالی علاقوں میں بارش و برف باری کے نئے رجحانات، یہ سب الگ الگ واقعات نہیں۔ یہ ایک ایسے موسمی نظام کے حصے ہیں جس کا مزاج بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی حالیہ تکنیکی رپورٹ اسی بڑی تصویر کو اعداد و شمار کی زبان میں بیان کرتی ہے۔ رپورٹ میں 1981 سے 2025 تک، یعنی تقریباً 45 برس کے موسمی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران ملک کے درجہ حرارت، بارش، دھند اور شدید موسمی حالات میں آنے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا گیا۔ رپورٹ کو اگر لاہور کی گلیوں سے لے کر ملک کے پہاڑوں، میدانوں اور صحراؤں تک پھیلایا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ موسم کا مسئلہ کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں رہا۔
سب سے نمایاں تبدیلی درجہ حرارت میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1981 سے 2025 تک پاکستان کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 0.95 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اوسط اضافہ 0.20 ڈگری فی دہائی رہا، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت میں اضافہ 0.26 ڈگری فی دہائی ریکارڈ کیا گیا۔ یوں 45 سال میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.90 ڈگری اور کم سے کم درجہ حرارت میں تقریباً 1.17 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ بنتا ہے۔
یہاں رات کے درجہ حرارت کا ذکر خاص طور پر اہم ہے۔ ہم عموماً گرمی کو دن کے درجہ حرارت سے جوڑتے ہیں۔ سورج نکلتا ہے، درجہ حرارت بڑھتا ہے اور شام کے ساتھ گرمی کم ہونے لگتی ہے۔ لیکن پاکستان میں راتیں دنوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہوئی ہیں۔
مرکزی اور جنوبی پنجاب، سندھ اور مشرقی بلوچستان کے بعض علاقوں میں رات کے درجہ حرارت میں یہ تبدیلی زیادہ نمایاں رہی۔ 2001 سے 2020 کے عرصے کا 1981 سے 2000 کے عرصے کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو بعض علاقوں میں رات کے درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ سامنے آیا۔
یہاں لاہور دوبارہ قومی تصویر میں شامل ہوجاتا ہے۔ ایک بڑے، گنجان اور تیزی سے پھیلتے شہر میں گرم رات کا مطلب صرف زیادہ گرمی نہیں۔ اس کا مطلب زیادہ بجلی کا استعمال، زیادہ ایئر کنڈیشننگ، زیادہ توانائی کی ضرورت اور شہری زندگی پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی ہے۔ جب یہی تبدیلی ملک کے دوسرے بڑے شہروں اور میدانی علاقوں میں بھی دیکھی جائے تو مسئلہ ایک شہر کا نہیں رہتا بلکہ قومی مسئلہ بن جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب، سندھ اور مغربی بلوچستان کے بعض علاقوں میں سالانہ 100 سے زیادہ دن ایسے ریکارڈ ہوئے جن میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا۔ بعض علاقوں میں گرم دنوں کی تعداد میں پانچ دن فی دہائی تک اضافہ بھی دیکھا گیا۔
اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ پاکستان میں موسم صرف زیادہ گرم نہیں ہورہا بلکہ زیادہ غیر یقینی بھی دکھائی دے رہا ہے۔ بارش اس کی واضح مثال ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1981 سے 2025 تک ملک کی سالانہ بارش میں اوسطاً 7.4 ملی میٹر فی دہائی کمی کا رجحان سامنے آیا۔ تاہم رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ کمی شماریاتی اعتبار سے نمایاں نہیں، کیونکہ پاکستان میں بارش سال بہ سال بہت زیادہ تبدیل ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ شاید بارش کی مجموعی مقدار سے زیادہ اس کا بدلتا ہوا انداز ہے۔
موسم سرما 2024-25 میں پاکستان میں بارش معمول سے 67 فیصد کم رہی۔ سندھ میں یہ کمی تقریباً 90 فیصد اور پنجاب میں 69 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ دوسری طرف 2022 کے مون سون میں جنوبی پاکستان کے بعض علاقوں میں بارش معمول سے 450 فیصد تک زیادہ ہوئی۔
ایک طرف پانی کی کمی ہے، دوسری طرف اچانک شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ۔ ایک طرف خشک سالی کا خدشہ ہے، دوسری طرف چند گھنٹوں کی غیر معمولی بارش شہروں اور دیہات کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو بدلتے ہوئے موسم کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
لاہور کی سموگ بھی اسی قومی کہانی کی ایک کڑی ہے۔
شہر کی ہوا میں آلودگی کے کئی مقامی ذرائع ہیں۔ ٹریفک، صنعتیں، اینٹوں کے بھٹے، تعمیراتی گرد اور فصلوں کی باقیات جلانا ان میں شامل ہیں۔ لیکن آلودگی کا اثر صرف اس بات سے طے نہیں ہوتا کہ دھواں کتنا پیدا ہوا۔ ہوا کی رفتار، بارش، درجہ حرارت اور فضا کی مجموعی کیفیت بھی فیصلہ کرتی ہے کہ یہ آلودگی کتنی دیر تک ہمارے درمیان موجود رہے گی۔
اسی لیے لاہور کی سموگ کو صرف لاہور کی گاڑیوں یا بھٹوں کا مسئلہ سمجھنا تصویر کا ایک حصہ دیکھنا ہے۔ جب پورے خطے کا موسم تبدیل ہورہا ہو تو آلودگی کے ذرات کے پھیلاؤ اور ٹھہراؤ پر بھی موسمی حالات اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ستمبر کے آخری دنوں میں لاہور کی آلودہ ہوا آنے والے سموگ سیزن سے زیادہ بڑی بات کہتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماحول کے مختلف مسائل ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔
درجہ حرارت بڑھتا ہے تو بجلی کی طلب بڑھتی ہے۔ بجلی کی طلب بڑھتی ہے تو توانائی کے ذرائع پر دباؤ آتا ہے۔ بارش کا انداز بدلتا ہے تو پانی اور زراعت متاثر ہوتے ہیں۔ فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے تو خوراک اور معیشت پر اثر پڑتا ہے۔ شہروں میں گرمی بڑھتی ہے تو صحت اور شہری سہولتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اور جب ہوا کی کیفیت خراب ہوتی ہے تو یہ مسئلہ براہ راست انسان کے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے۔ یعنی لاہور کی ہوا اور شمالی پاکستان کے بدلتے موسم کے درمیان بظاہر جتنا فاصلہ ہے، حقیقت میں اتنا نہیں۔
رپورٹ میں موسم بہ موسم درجہ حرارت کی تبدیلی بھی اہم ہے۔ فروری سے اپریل کے دوران شمالی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے بعض علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ ایک ڈگری سینٹی گریڈ فی دہائی تک رہا۔ 1981-2000 اور 2001-2020 کے ادوار کا موازنہ کیا جائے تو بعض علاقوں میں فروری سے مئی کے دوران درجہ حرارت 1.5 سے 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہا۔
یہ وہ مہینے ہیں جن کا تعلق زراعت، پھلوں، فصلوں اور پانی کی ضرورت سے بھی ہے۔ اس لیے موسم میں چند ڈگری کی تبدیلی صرف موسم کی خبر نہیں رہتی، یہ کسان کی منصوبہ بندی اور شہری کی روزمرہ زندگی سے جڑ جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر جگہ اور ہر موسم میں درجہ حرارت ایک ہی سمت میں نہیں گیا۔ رپورٹ کے مطابق جون سے ستمبر اور دسمبر سے جنوری کے دوران بعض علاقوں میں درجہ حرارت میں 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ فی دہائی تک کمی کا رجحان بھی دیکھا گیا۔ بعض علاقوں میں ان ادوار کے دوران 0.5 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی ریکارڈ ہوئی۔
یہی تفصیل ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہر جگہ ہر وقت گرمی بڑھتی جائے گی۔ اصل تبدیلی موسمی نظام کے توازن، وقت، شدت اور علاقے کے لحاظ سے مختلف شکلوں میں سامنے آسکتی ہے۔
دھند بھی اسی پیچیدہ تصویر کا حصہ ہے۔ پنجاب اور سندھ میں دھند کے دنوں میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ لاہور اس معاملے میں ایک نمایاں مثال ہے، کیونکہ یہاں سردیوں کی دھند اور فضائی آلودگی مل کر ایک ایسا مسئلہ پیدا کرتی ہیں جس کے اثرات صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہتے۔
لاہور میں دھند اور سموگ کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں ملک کے دوسرے علاقوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جو کچھ لاہور میں سانس لینے کے مسئلے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے، ملک کے دوسرے حصوں میں وہ پانی، گرمی، سیلاب، خشک سالی یا زرعی مشکلات کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں لاہور قومی تصویر کا مرکز بن جاتا ہے۔ لاہور پاکستان کا واحد آلودہ شہر نہیں، لیکن یہ ایک ایسا بڑا شہری مرکز ضرور ہے جہاں ماحول، آبادی، ٹریفک، صنعت اور موسم کی تبدیلی ایک دوسرے سے ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ہونے والی تبدیلیاں اس لیے زیادہ نمایاں محسوس ہوتی ہیں کہ لاکھوں لوگ روزانہ ان کا سامنا کرتے ہیں۔ اکتوبر کا آغاز ہمیں اسی لیے صرف سموگ کی فکر نہیں دلاتا۔ یہ ہمیں پاکستان کے بدلتے موسم کے بارے میں سوچنے کا موقع بھی دیتا ہے۔
اگلے چند ہفتوں میں لاہور کی ہوا بہتر بھی ہوسکتی ہے اور مزید خراب بھی۔ بارش ہو تو آلودگی عارضی طور پر کم ہوسکتی ہے، ہوائیں چلیں تو فضا صاف ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر بنیادی ذرائع برقرار رہیں تو مسئلہ دوبارہ سامنے آئے گا۔
یہی بات موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں بھی ہے۔ ایک ٹھنڈی شام، ایک اچھی بارش یا چند دن صاف ہوا ہمیں وقتی سکون ضرور دے سکتی ہے، مگر 45 سال کے اعداد و شمار کو ایک موسم یا ایک ہفتے سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کا سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ موسم اب صرف موسم نہیں رہا۔ یہ پانی کا مسئلہ ہے، خوراک کا مسئلہ ہے، صحت کا مسئلہ ہے، شہروں کی منصوبہ بندی کا مسئلہ ہے اور معیشت کا مسئلہ بھی ہے۔
لاہور کی ستمبر کی آلودہ ہوا اس بڑے مسئلے کا صرف ایک شہری منظر ہے۔ ملک کے کسی اور حصے میں اسی تبدیلی کا چہرہ مختلف ہوسکتا ہے۔ کہیں درجہ حرارت کی شدت ہوگی، کہیں بارش کا فقدان، کہیں اچانک سیلاب اور کہیں دھند۔
اکتوبر کے آغاز پر لاہور ایک بار پھر سموگ کے ممکنہ موسم میں داخل ہورہا ہے۔ شاید اس بار بھی چند ہفتوں بعد شہر کا آسمان دھندلا دکھائی دے، لوگ ماسک پہنیں اور سڑکوں پر حدِ نگاہ کم ہوجائے۔
لیکن اس منظر کو صرف لاہور کی سالانہ مصیبت سمجھ کر گزر جانا کافی نہیں۔ اس دھند کے پیچھے پاکستان کے بدلتے موسم کی ایک بڑی تصویر موجود ہے۔
اور اس تصویر کو سمجھنے کے لیے کبھی کبھی ہمیں دور کے پہاڑوں، دریاؤں اور صحراؤں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لاہور کی ایک آلودہ شام بھی بہت کچھ بتا دیتی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔