امریکی یونیورسٹی کارنیل میں طالبہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں نئے انکشافات کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 2024 میں یونیورسٹی کی ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کے الزام میں نامزد 7 طلبا سے تفتیش کے دوران ان کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف اور کئی مقامات پر متضاد پائے گئے۔
تفتیش کے دوران 4 طلبا نے طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق کا اعتراف کیا تاہم ان کا مؤقف تھا کہ یہ باہمی رضامندی سے ہوا جبکہ دیگر 3 طلبا نے جنسی تعلق میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔
طالبہ نے الزام عائد کیا تھا کہ اسے شراب اور منشیات استعمال کروائی گئیں جس کے بعد وہ ایسی حالت میں پہنچ گئی جہاں وہ رضامندی دینے کے قابل نہیں تھی اور متعدد افراد نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
تاہم ملزمان نے تفتیش کے دوران خاتون کی حالت اور واقعات کی نوعیت سے متعلق مختلف دعوے کیے۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں کارنیل یونیورسٹی کے ایک طلبہ برادری کے گھر میں پیش آنے کا الزام ہے۔ خاتون نے پولیس کو رپورٹ دی لیکن اس وقت فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ اسی طالبہ نے یونیورسٹی، طلبہ برادری اور سات افراد کے خلاف دیوانی مقدمہ دائر کیا جس کے بعد معاملہ دوبارہ زیرِ تفتیش آیا۔