لانگ مارچ کی صورت میں ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے، محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو واضح کردیا

بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی قیادت کو آگاہ کیا حکومتی وفد نے حکومت خیبرپختونخوا کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے


احتشام بشیر October 02, 2026
فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کے بعد مشاورت کا عمل جاری ہے جبکہ ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کی صورت میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے۔

پشاور میں پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی لانگ مارچ کے حوالے سے سر جوڑ کر بیٹھ گئی اور رات گئے تک اجلاس جاری رہا تاکہ حکومت سے مذاکرات سے قبل لانگ مارچ کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے واضح کیا ہے کہ 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کی صورت میں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرسکتی ہے جس کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں نے بھی تائید کی۔

ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی زیرصدارت آن لائن اجلاس میں حکومتی کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر شرکا کو اعتماد میں لیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران حکومتی وفد کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی شرط سامنے رکھی جائے اور ملاقات کی صورت میں دیگر معاملات بھی طے کیے جاسکتے ہیں۔

علامہ راجا ناصر عباس کے ساتھ پی ٹی آئی کے دو سے تین رہنماؤں کو بھیجنے اور کوٹ لکھپت جیل میں قید پارٹی رہنماؤں سے بھی مشاورت کی تجویز بھی زیرغور آئی۔

ذرائع کے مطابق رات گئے اجلاس میں لانگ مارچ ملتوی کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بھی مشاورت جاری رہی۔

قبل ازیں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دفتر میں مذاکرات ہوئے، جس کے بارے میں رپورٹ ہوا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومت خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ بتائی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں اور امن و امان کو خیبرپختونخوا کی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات وفد میں شامل سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے خیبرپختونخوا کی حکومت اور سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں۔