چھوٹی الائچی، صرف خوشبو ہی نہیں صحت کے حوالے سے بھی مفید

چھوٹی الائچی کے بیج، تیل اور عرق کو بھی طویل عرصے سے روایتی ادویاتی استعمال میں شامل کیا جاتا رہا ہے


ویب ڈیسک October 03, 2026
الائچی کا مرکزی جزو ’کارڈیمونن‘ سے بریسٹ کینسر کی سخت جان کو بھی قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

چائے میں خوشبو اور ذائقہ بڑھانے والی چھوٹی الائچی صرف مشروبات تک محدود نہیں بلکہ اسے میٹھے اور نمکین دونوں طرح کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بیج، تیل اور عرق کو بھی طویل عرصے سے روایتی ادویاتی استعمال میں شامل کیا جاتا رہا ہے۔

سبز رنگ کی یہ خوشبودار الائچی پودینے سے ملتا جلتا مگر نسبتاً میٹھا ذائقہ رکھتی ہے۔ اس میں مختلف اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والے مرکبات پائے جانے کے باعث اس کے ممکنہ طبی فوائد پر بھی تحقیق کی گئی ہے۔

بلڈ پریشر کے لیے ممکنہ فائدہ

الائچی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کے باعث اسے بلڈ پریشر کے حوالے سے بھی زیرِ مطالعہ رکھا گیا ہے۔ بعض تحقیقات میں الائچی کے استعمال اور بلڈ پریشر میں معمولی کمی کے درمیان تعلق دیکھا گیا، تاہم اسے ہائی بلڈ پریشر کی دوا کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

کینسر سے متعلق تحقیق

الائچی میں موجود بعض مرکبات پر کینسر کے خلیات اور ٹیومر کی افزائش کے حوالے سے تجرباتی تحقیق ہوئی ہے۔ تاہم ان نتائج کو انسانوں میں کینسر سے بچاؤ یا علاج کا ثابت شدہ طریقہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

سوزش کم کرنے والی خصوصیات

الائچی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ مرکبات جسم کے خلیات کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچانے اور سوزش کے عمل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس مصالحے کی سوزش مخالف خصوصیات بھی سائنسی تحقیق کا موضوع رہی ہیں۔

نظامِ ہاضمہ اور السر

روایتی طور پر الائچی کو نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے اور اسے معدے سے متعلق بعض مسائل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ تحقیقی مطالعات میں الائچی کے ممکنہ حفاظتی اثرات کو معدے کے السر سے بھی جوڑا گیا ہے۔

سانس کی بدبو اور دانتوں کی صحت

الائچی چبانے کا رواج سانس کو خوشگوار بنانے کے لیے عام ہے۔ اس کے عرق میں ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو منہ میں موجود بعض بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے میں مدد دے سکتے ہیں، اسی لیے اسے بعض چیونگم اور منہ کی صفائی سے متعلق مصنوعات میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔

اینٹی بیکٹیریل اثرات

الائچی کے عرق میں موجود بعض مرکبات مختلف اقسام کے جراثیم کے خلاف اثرات دکھا سکتے ہیں۔ تحقیق میں ایسے بیکٹیریا بھی شامل رہے ہیں جو بعض فنگل انفیکشنز، خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور دیگر مسائل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔