حکومت اور اپوزیشن مذاکرات دوسرے دور میں کامیاب ہوگئے تاہم دونوں فریقین نے مطالبات پر بات چیت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذکرات کا دوسرا دو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا۔
اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کے تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا۔
مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی مذاکرات میں شریک تھے۔
اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ شریک ہوئے۔
امیر مقام نے کہا کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کےلیے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی مگر آج سہیل آفریدی نے کل دن ایک بجے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔
حکومتی رکن نے مؤقف دیا کہ سینیر حکومتی اکابرین بارے نازیبا زبان استعمال کی گئی، ایسے میں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے۔
اُدھر اپوزیشن اراکین نے خواجہ آصف کے ٹویٹ کا شکوہ کیا اور سوال کیا کہ کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کریں تاکہ مذاکرات آگے بڑھیں۔
مذاکرات کی اندوانی کہانی
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ذرائع سے سامنے آنے والی اندرونی کہانی کے مطابق حکومتی مذاکرات ٹیم نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کا اعلان واپس لینے کا واضح پیغام دے دیا۔
ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی نے کہا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ایسا برداشت نہیں ہوسکتا کہ دہشت گردوں کو مارچ میں آنے کا راستہ ملے۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے وفد نے لانگ مارچ ختم کرنے کیلئے حکومت کے سامنے شرائط رکھتے ہوئے اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر سے بانی کی ملاقات کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے پر اہم پیش رفت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے کیلئے بانی ٹی آئی سے ملاقات کی خواہش کی کیونکہ اس کے بعد مارچ کو ختم کرنے کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔
اپوزیشن وفد کی اہم شخصیت سے ملاقات
مذاکرات سے قبل اپوزیشن اتحاد کے ایک وفد کی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی جس میں چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس اور اسد قیصر شامل تھے اور یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات پر بات چیت ہوئی جبکہ کچھ مطالبات پر رد وبدل بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزائی کو بھی بزریعہ ٹیلیفون رابطے میں رکھا گیا تھ۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد نے اس اہم شخصیت سے ملاقات کے بعد اپنے حتمی مطالبات تیار کرلیے۔