ناول ’’عجب نصیبی‘‘ پر ایک نظر

پورا ناول وطن فروشوں کی خود غرضی اور زرپرستی سے بھرا ہوا ہے


نسیم انجم October 04, 2026
[email protected]

آج ثروت ضحی کے ناول ’’عجب نصیبی‘‘ کی رونمائی ہے، اسی سلسلے میں اکابرین شہر ایک خاص مرکز کراچی پریس کلب میں جمع ہوئے ہیں، میں اس خوشی کے موقع پر جناب ثروت ضحی کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔

یہ ان کا پہلا ناول نہیں ہے بلکہ دوسرا ناول اور علم و ادب اور شعر و سخن کے گلشن میں کھلا ہوا پھول ہے۔ میری ناقص معلومات کے تحت میں انھیں شاعر اور مزاح نگار کے حوالے سے ہی جانتی تھی لیکن جب کتاب پر درج کتابوں کے نام پڑھے تو میں حیران ہوئی اور مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ ناول کا موضوع مختلف تھا، عام موضوعات سے ہٹ کر ایک پاکستانی جو اپنے ملکی حالات کا درد رکھتا ہے، سیاسی داؤ پیچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ملکی سالمیت کے خطرے سے سخت پریشان ہے۔ انھی حالات کے تناظر میں ’’عجب نصیبی‘‘ کی تخلیق ہوئی ہے۔

حاضرین کرام! تو اب آتے ہیں اس ناول کی طرف جس کے تعارف کے لیے محفل سجی ہے۔
اس بات سے تو اکثر لوگ واقف ہیں کہ مصنف کو لفظوں کی تراش خراش میں مہارت حاصل ہے، اگر ناول کے نام پر ہی غور کریں ’’عجب نصیبی‘‘ تو اسی طرح کئی الفاظ تحریر میں جدید تقاضوں کے ساتھ نظر آئیں گے، جیسے ناول پرسی، لفظوں کی قندیل قاری کو تفکر کی دعوت دیتی ہے، کائنات کی وسعتوں پر غور و فکر کی دعوت مالک حقیقی نے بھی دی ہے۔

کھایا پیا اور رخصت ہو گئے یہ زندگی اور حق زندگی نہیں ہے۔مصنف نے اپنے مضمون ’’ایسا کیوں؟‘‘ میں جہاں اپنی دلی کیفیت، احساسات اور جذبات کی عکاسی کی ہے وہاں دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کرم فرماؤں کی ایک فہرست بھی درج کر دی ہے انھی میں سلطان جمیل نسیم کا نام بھی سامنے آتا ہے، اس دوران ان کا باوقار اور شفیق چہرہ تہذیب اور شائستگی سے آراستہ لب و لہجہ یاد آ جاتا ہے۔

حق مغفرت فرمائے۔ثروت ضحی نے لکھا ہے کہ ’’عجب نصیبی‘‘ کی عجیب سوچ ناول لکھنے کی محرک بنی۔ بے شک بات تو سولہ آنے درست ہے، عجیب سوچ اور اعلیٰ افکار ہر شخص کے نصیب میں نہیں، ایسے خیالات تو ایسے دل و دماغ میں ہی پرورش پاتے ہیں جو وطن کا درد رکھتے ہیں اور پھر مسائل کو حل کرنے کی تدبیر میں صبح شام علم و آگہی کی وادیوں کا سفر کرتے ہیں۔

ثروت ضحی کو اپنی دھرتی سے بے حد پیار ہے، دیار غیر میں ضرور رہتے ہیں لیکن ان کا دل پاکستان کی ارض پاک سے جڑا ہوا ہے۔ناول ’’عجب نصیبی‘‘ کا سہارا لے کر مصنف نے ایک دیپ جلایا ہے جس کی روشنی میں پاکستان کے مقتدر حضرات کی ناانصافی، ملک کی پامالی کے ایک نہیں کئی واقعات اور کردار عیاں ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے سیاست دانوں، وزرا و امرا کے سیاسی کرتوتوں کا ذکر اشاروں و کنایوں میں نہیں کیا ہے بلکہ ببانگ دہل ایک ایک کے نام اور ان کے کارناموں کو اجاگر کیا ہے، لیکن ہمارے ملک میں تو سچ بولنے کی پابندی ہے۔ اکثر اوقات تاریخ سے لاعلمی بھی باعث نجات بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس آگہی کا عذاب جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ کتنے لوگ اس راہ پُرخار کا لقمہ بن چکے ہیں۔ حبیب جالب بھی سیاسی اور معاشرتی بدحالی کا شکار ہوئے۔

ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

مصنف سیاسی حالات اور معاشرے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا رونا روتے پرائے دیس میں ہیں اور آنسو اپنی سرزمین پر گرتے ہیں، پھر یہی گریہ لفظوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پورا ناول وطن فروشوں کی خود غرضی اور زرپرستی سے بھرا ہوا ہے اسی لیے وہ اسلامی جمہوریہ کو ’’ابہامی جمہوریہ‘‘ کہنے پر مجبور ہوئے۔

ناول کا کلیدی کردار محبوب جاوید ہے جو بیرون ملک کی آسائشوں کو چھوڑ کر اپنے وطن آ گیا ، مع اپنی فیملی کے، جبکہ پاکستان کے نوجوان حفظ ما تقدم کے تحت اپنا وطن چھوڑ رہے ہیں کہ اپنے ہی ملک میں جان و مال کی امان نہیں، سر منڈواتے ہی اولے پڑنے کے مصداق بارش ہو گئی ہے، جل تھل سڑکیں، ابلتے ہوئے گٹر اور گھپ اندھیرے کے ساتھ بجلی کے ننگے تار موت کی دعوت دیتے ہوئے۔

یہ ناسازگار ماحول بھی محبوب جاوید کو لوٹنے کی ترغیب نہیں دیتا ہے۔ محبوب کا کردار ایسا ہی ہے جسے اپنے ملک کی تباہی کا شدت سے احساس ہے اور یہی احساس اس کی روح میں اتر گیا ہے۔ وہ چالبازوں کی چالوں اور گھٹیا تقسیم کے عمل سے اندر سے ٹوٹ گیا ہے۔

اسے بھوک میں مرتے اور خودکشی کرتے ہوئے عوام خون کے آنسو رلاتے ہیں، اسی لیے تحریر لہو رنگ ہو گئی ہے۔ مایوسی کے اندھیروں کے باوجود ایک آس بھی ہے کہ ایک دن ضرور سب درست اور موسم برسات کے حسن کی واپسی ضرور ہوگی۔

شاہکار سے اچانک ہونے والی ملاقات نے جاوید کی امنگوں کو تقویت بخشی ہے۔ ٭ ناول کے کئی کردار ایسے ہیں جو قاری کو تادیر اس کے سحر میں گم رکھتے ہیں۔٭ محبوب جاوید ایک ہی شخصیت کا نام ہے لیکن شاہکار کے لیے وہ صرف جاوید ہے جو یونیورسٹی میں اس کے ساتھ پڑھا کرتا تھا، وہ دونوں ایک دوسرے کو شدت سے چاہتے ہیں لیکن ان کی محبت پاکیزہ اور بے لوث ہے۔

شاہکار نے مقابلے کا امتحان پاس کر لیا ہے اور مزید کامیابی کے لیے سرگرداں ہے۔ اعوان شاہکار کے ماموں اور وقار اس کے والد ہیں۔ یہ دونوں سیاستدان دولت اور شہرت کی طمع میں اپنے خونی رشتوں کو بھول جاتے ہیں لیکن انجام زندگی کی ناکامی سے ہمکنار کرتا ہے۔ناول میں پاکستان کی گھٹیا سیاست کا منظرنامہ بار بار آتا ہے اس وقت مجھے شاد عارفی صاحب کا یہ شعر یاد آ گیا ہے:

میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھ
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

٭ رچرڈ جوکہ سسٹر راچی کے نام سے جانا جاتا ہے وہ اپنے سیلون میں بیگمات کی آرائش و زیبائش میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اور ان آزاد خیال خواتین کے ذریعے پاکستانی سیاست کو آسانی سے جان لیتا ہے۔

ان سطور کو پڑھتے ہوئے مجھے شوکت صدیقی کا ناول جانگلوس اور خدا کی بستی یاد آ جاتا ہے ۔٭ بیک میسن ایک رہنما اور شفیق استاد اور دوست کی حیثیت سے سامنے آتا ہے جو شاہکار کو اعتماد بخشتا ہے۔ شاہکار کو ضروری مراحل سے گزرنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں کام کرنا اور اپنے خوابوں کی تعبیر کو پانا ہے۔ لیکن انسان جو سوچتا ہے وہ ہوتا نہیں ہے۔

مصنف نے ٹریڈ سینٹر کے پہنچنے کے سفر کو اس طرح تکمیل تک پہنچایا ہے کہ قاری کا تجسس پروان چڑھتا ہے۔110 منزلہ عمارت کی لفٹ میں بیک میسن اور شاہکار ایک ساتھ داخل ہوئے، شاہکار کے دل کا سفر ارمانوں اور ترقی کی رہگزر پر لفٹ کی رفتار سے زیادہ تیز تھا۔84، 85، 86، 87 اور پھر زوردار دھماکہ پل بھر میں شاہکار اور بیک میسن ابدی نیند سو چکے تھے۔

ڈاکٹر حسیب کی یکطرفہ محبت شاہکار کو پانے کی تمنا نے اس وقت دم توڑ دیا جب مرنے والوں کی فہرست میں شاہکار کا نام نمایاں ہوا۔ ڈاکٹر حسیب کو اس صدمے نے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

ناول ’’عجب نصیبی‘‘ مکمل طور پر سیاسی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ ابتدا سے انجام تک جذبہ حب الوطنی نے ناول کے اوراق پر جگہ بنا لی ہے۔ میں اس موقع پر مصنف کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔
(تقریب رونمائی کے موقع پر پڑھا ہوا مضمون)