’امریکی اور اسرائیلی سکیورٹی پر بھروسا زیادہ دیر نہیں چلے گا‘، ایران کی امارات کو سخت وارننگ

نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے ابوظبی میں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی تھی


ویب ڈیسک October 04, 2026

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب پر سکیورٹی کے لیے انحصار کرنے والے ممالک بالآخر اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی میں مشکلات اور بے یقینی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ایران اور امارات کے درمیان علاقائی سکیورٹی اور تین متنازع جزائر کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد پیغامات میں گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابوموسیٰ جزائر پر ایران کے دعوے کو دہرایا اور کہا کہ یہ جزائر ایران کے تھے اور ایران کے ہی رہیں گے۔

انہوں نے امارات کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان جزائر پر ملکیت کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیانات سے جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا۔

یہ تین جزائر خلیج فارس کے ایک اہم حصے میں واقع ہیں اور ایران ان پر اپنا کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات بھی ان پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔

حالیہ جنرل اسمبلی اجلاس میں اماراتی حکام نے اس تنازع کو مذاکرات یا عالمی عدالت انصاف کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے پر زور دیا تھا، جبکہ ایران نے اپنے مؤقف میں تبدیلی نہیں کی۔

ایرانی رہنما کے مشیر نے امارات پر اس حوالے سے بھی تنقید کی کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے حالیہ دورۂ ابوظبی کے تقریباً ایک ہفتے بعد امارات عرب حقوق اور اسلامی یکجہتی کی بات کر رہا ہے۔

ولایتی نے اس طرزِ عمل کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام اس صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے ابوظبی میں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی تھی، جس کی تصدیق اماراتی سرکاری میڈیا نے بھی کی۔

ولایتی نے مزید کہا کہ خطے کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’درآمد شدہ سکیورٹی‘‘ کی ایک مدت ہوتی ہے اور ہمسایہ ملک موجود رہتا ہے جبکہ باہر سے آنے والا مہمان چلا جاتا ہے۔

ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کے دورۂ امارات اور واشنگٹن و ابوظبی کے سکیورٹی روابط کے معاملے پر تہران کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔