نصف مدت بعد بھی مینڈیٹ کے الزامات

سندھ کے سینئر وزیر نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پہلے اپنے مینڈیٹ کو تو ثابت کرے کہ وہ سندھ حکومت کو کیسے مصنوعی قرار دے رہی ہے۔


[email protected]

سندھ کے سینئر وزیر نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پہلے اپنے مینڈیٹ کو تو ثابت کرے کہ وہ سندھ حکومت کو کیسے مصنوعی قرار دے رہی ہے۔ کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے حالیہ دورہ کراچی میں کہا تھا کہ ہماری قومی اسمبلی کی بیس اور صوبائی اسمبلی کی چالیس نشستیں فارم 47 کے ذریعے چھینی گئی تھیں ،انھوں نے یہ واضح نہیں کیا یہ نشستیں مبینہ طور سندھ کی تھیں یا کراچی کی اور یہ نشستیں کس کو دی گئی تھیں۔

ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول نے اپنی ایک بڑی ریلی سے خطاب میں کہا کہ 2018 میں ہماری نشستیں پی ٹی آئی کو دی گئی تھیں جو ہمیں 2024 میں واپس ملیں اور یہ بڑی ریلی ثابت کر رہی ہے کہ کراچی کے عوام آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ جے یو آئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے الاخوان میں پریس کانفرنس میں حال ہی میں الزام لگایا کہ جے یو آئی 2024 الیکشن میں دس نشستیں جیت چکی تھی مگر فارم 47 کے ذریعے ہماری یہ نشستیں پیپلز پارٹی کو دے دی گئی تھیں۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ہم نے اپنی دس نشستوں پر پیپلز پارٹی کی کامیابی کو متعلقہ الیکشن ٹریبونلز میں چیلنج کر رکھا ہے مگر ڈھائی سال میں سماعت نہیں ہو رہی ہے۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ 2024 میں کے پی میں جے یو آئی کو ہرایا گیا تھا اور ہماری نشستیں فارم 47 کے ذریعے تحریک انصاف کے امیدواروں کو دی گئی تھیں اس لیے جمعیت موجودہ حکومتوں کو جعلی قرار دیتی ہے جنھیں فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ کے پی کی حکومت کے سوا باقی تمام حکومتیں مصنوعی اور فارم 47 کی پیداوار ہیں۔

پی ٹی آئی مسلم لیگ ن کی کامیابی کو جعلی اور فارم 47 کی پیداوار قرار دیتی آ رہی ہے کہ2024 میں وفاق اور پنجاب میں ہماری اکثریت کو فارم 47 کے ذریعے تبدیل کرکے مسلم لیگ (ن) کو جعلی طور جتوایا گیا تھا جب کہ وہاں حکومتیں بنانا پی ٹی آئی کا حق تھا اور ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 2024 میں نواز شریف ایبٹ آباد، مولانا فضل الرحمن اپنے دیرینہ حلقے ڈیرہ اسماعیل خان اور بلاول بھٹو لاہور سے قومی اسمبلی کے انتخاب ہار گئے تھے جب کہ نواز شریف لاہور، مولانا فضل الرحمن کو پشین اور بلاول بھٹو لاڑکانہ سے کامیاب قرار پائے تھے جن میں نواز شریف کی کامیابی کو پی ٹی آئی اور بلاول بھٹو کی کامیابی کو جے یو آئی تسلیم نہیں کرتی ۔ سندھ میں پی پی اور کے پی میں پی ٹی آئی میں جو دو تہائی اکثریت ملی تھی جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو سادہ اکثریت ملی تھی جہاں باہمی معاہدے کے مطابق پنجاب میں (ن) لیگ کی حکومت میں پیپلز پارٹی کو وزارتیں ملنی تھیں مگر پی پی کو وزارتیں دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

 وفاق میں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم، (ق) لیگ کے ساتھ مل کر شہباز شریف کو معاہدے کے تحت وزیر اعظم بنایا تھا اور دونوں بڑی پارٹیوں نے اپنے اتحادی مولانا فضل الرحمن کو نظرانداز کیا تھا جن سے آصف زرداری ناراض تھے کیونکہ سندھ میں جے یو آئی نے پیپلز پارٹی کا بھرپور مقابلہ کیا تھا اور مولانا صدر مملکت بننا چاہتے تھے جو پیپلز پارٹی کو قبول نہ تھا ۔ پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں بھی جے یو آئی کو شامل نہیں ہونے دیا تھا جب کہ وہاں جے یو آئی کے پاس نمایاں نشستیں تھیں۔ آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی ایم کیو ایم کے ووٹوں سے ہی صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے تھے اور ووٹ لینے کے بعد ایم کیو ایم کو پہلے اپنا مینڈیٹ ثابت کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی نے باہمی معاہدے کے تحت ملک کے پانچ بڑے عہدے لیے تھے جو آئینی اور محفوظ عہدے ہیں مگر وفاقی حکومت میں اپنی کسی مصلحت کے تحت پیپلز پارٹی شامل نہیں ہوئی تھی۔ ڈھائی سال بعد اپنی وفاقی اتحادی پارٹی ایم کیو ایم پر سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنما الزام لگا چکے ہیں کہ سندھ میں اس کا مینڈیٹ جعلی ہے تو ایم کیو ایم کا جواب آتا ہے کہ اگر ہمارا مینڈیٹ جعلی ہے تو پی پی نے صدارت اور سینیٹ کے لیے ہمارے ووٹ کیوں لیے تھے۔ ایم کیو ایم سمیت سندھ، پنجاب و کے پی میں بھاری اکثریت سے حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف پر ان کے مخالفین جعلی مینڈیٹ کا الزام لگاتے رہے ہیں مگر بلوچستان میں ایسا نہیں ہے جہاں پی پی اور (ن) لیگ کی اتحادی حکومت ہے جو فارم 47 سے محفوظ ہے۔

تحریک انصاف بالاتروں کو وفاق، سندھ و پنجاب میں جعلی مینڈیٹ اور فارم 47 سے اپنی مخالف پارٹیوں کی حکومتیں قائم کرانے کا ذمے دار قرار دیتی ہے اگر ایسا ہوتا تو کے پی میں پی ٹی آئی کو بھاری اکثریت لینے میں رکاوٹڈالی جا سکتی تھی اور پنجاب سے بھی پی ٹی آئی کی بجائے پیپلز پارٹی کو اس کی جگہ لایا جا سکتا تھا مگر ایسا نہیں ہوا تھا ورنہ کے پی میں اپنی حکومت کے باعث پی ٹی آئی وفاق کے لیے مسئلہ نہ بنی ہوتی۔

کوئی پارٹی دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس کا مینڈیٹ حقیقی ہے کیونکہ سب پر ہی دھاندلی سے کامیابی حاصل کرنے کے الزامات ہیں اور آج تک پاکستان میں کسی بھی الیکشن کو شفاف اور منصفانہ تسلیم نہیں کیا گیا تو اب یہ موقع ہے کہ تمام پارٹیاں مل کر طے کریں کہ ایسا غیر جانبدار اور بااختیار الیکشن کمیشن بنے اور غیر متنازعہ چیف الیکشن کمشنر لایا جائے جس پر سب پارٹیوں کو اعتماد ہو مگر یہاں ایسا بھی ممکن نہیں اور کوئی پارٹی اپنی شکست تسلیم نہیں کرے گی سب دھاندلی چاہتی ہیں انھیں تو فخرالدین جی ابراہیم جیسا چیف الیکشن کمشنر بھی قبول نہیں ہوا تھا۔