گاما پہلوان

رحیم بخش سلطانی والے کا قد سات فٹ تھا۔ گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اس پہلوان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔


راؤ منظر حیات October 05, 2026

رحیم بخش سلطانی والے کا قد سات فٹ تھا۔ گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اس پہلوان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ پورا جسم معلوم پڑتا تھا کہ لوہے میں ڈھلا ہوا ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں ‘ اس جیسے قد کاٹھ کا کوئی پہلوان نظر نہیں آتا تھا۔ فن پہلوانی میں طوطی بولتا تھا۔ پچھلی صدی کے شروع کا زمانہ تھا۔ مگر ہر عروج کو زوال ہے۔ بالکل اسی طرح رحیم بخش کو سترہ سال کے ایک نوخیز پہلوان نے چیلنج کر دیا۔ یہ صورت حال کافی مشکل تھی۔ سلطانی والا ‘ پوری زندگی ناقابل شکست رہا تھا۔

عمر چالیس برس کے لگ بھگ تھی۔ امرتسر کا نوجوان پہلوان‘ غلام محمد بخش ‘ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔ اس کی فتوحات کے ڈنکے بج رہے تھے۔ گامے کا تعلق ایک کشتی لڑنے والے گھرانے سے تھا۔ گھر کے تمام مرد‘ اس شعبے سے تعلق رکھتے تھے۔ سلطانی والے نے کشتی کا یہ مقابلہ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ مقابلہ ہوا جو گھنٹوں تک جاری رہا۔ پہلے راؤنڈ میں گامے میں اتنا اعتماد نظر نہیں آیا کہ مدمقابل کو پچھاڑ سکے۔ لگتا تھا‘ ہار جائے گا۔ دوسرے راؤنڈ میں گاما پوری کشتی پر چھا چکا تھا۔ رحیم بخش پر خوب داؤ پیج لگا رہا تھا۔ ہزاروں لوگ‘ اس دلچسپ کشتی کو دیکھ کر تالیاں بجا رہے تھے۔

نعرے لگا رہے تھے۔ چند گھنٹوں میں ثابت ہو چکا تھا۔ کہ جوڑی برابر کی ہے۔ کوئی بھی دوسرے کو چت نہیں کر سکتا۔ ریفری نے یہ کشتی ختم کرواتے ہوئے اعلان کیا کہ دونوں پہلوان اس کھیل میں ناقابل شکست ہیں۔ مقابلہ برابر آ کر چھوڑا جاتا ہے۔ سب جانتے تھے کہ سلطانی والا ‘ ادھیڑ عمری میں ہے۔ کیریئر کے اختتام کے نزدیک ہے۔ دوسری جانب‘ گاما پہلوان ‘ بالکل نوجوان اورجسمانی قوت سے لبریز تھا۔ لہٰذااس کشتی میں دونوں کا نتیجہ برابر ہی ہونا تھا۔اس کشتی نے نوجوان پہلوان غلام بخش کو برصغیر میں ایک بلند مرتبہ پر فائز کر دیا۔ اس کے سنہری دور کا آغاز تھا۔ یہ نوجوان گاما پہلوان کے نام سے دنیا کے سامنے آیا۔ رستم ہند اور رستم زمان کہلایا ۔ اور باون برس(52) ناقابل تسخیر رہا۔

غلام بخش 1878میں جبو وال میں پیدا ہوا۔ گاؤں امرتسر میں تھا۔ وہی امرتسر‘ جس میں سعادت حسن منٹو سانس لیتا رہا۔ جہاں‘ افسانوں کی حد تک خوبصورت‘ عرب ہوٹل واقع تھا۔ گامے کے والد کا نام محمد عزیز بخش تھا۔ یہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے خاندان تھا۔ مرد صحرا‘ ڈاکٹر ارشد بٹ سے بڑا مکالمہ ہوتا رہا ہے۔ کہ کشمیری قوم ‘ برصغیر کی حد درجہ غالب نسل ہے۔ ہندوستان کے نہروحکمران خاندان سے لے کر ‘ پاکستان کے شریف خاندان ‘ تمام افراد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو‘ افسانہ نگاری کا بے تاج بادشاہ ہے۔ وہ بھی کشمیری نژاد تھا۔ موسیقی کی دنیا کا بڑا نام‘ خواجہ خورشید انور۔ اپنے نام سے ثابت کرتا ہے ‘ کہ ان کا تعلق کس خطہ سے ہے۔ مرد صحرا سے طویل بحثوں میں یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وادی کشمیر‘ ایک انوکھا اور زرخیر علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ اور مکین ‘ خوش شکل اور ہنر مند ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ایسی متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں جو دوسروں کے نصیب میں ذرا کم ہی آتی ہیں۔ یہ ہرگز ہرگز ‘ حسن اتفاق نہیں۔ بلکہ قدرت کا ایک ثمر ہے جو صرف وہی عطا کر سکتا ہے ۔ اس کا کیا جواز ہے۔ یہ کیا رمزہے‘ اس معاملہ پر کسی اور وقت لکھوں گا۔

گاما پہلوان کی طرف واپس آتا ہوں۔ قد پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔ چھاتی کا حجم‘ 46انچ اور وزن ایک سودس کلو تھا۔ 1910ء میں ہیوی ویٹ کے اندر‘ ورلڈ چیمپئن قرار دے دیا گیا۔ طاقت اور فن کشتی پر عبور کا یہ عالم تھا کہ کرہ ارض پر اپنے اپنے شعبوں کے چیمپئن ‘ اس سے مقابلہ کرنے سے کتراتے تھے۔ روپیاگا‘ جوڈو کا چیمپئن تھا۔ تعلق جاپان سے تھا۔گامے نے اسے رنگ میں لڑنے کا کہا۔ اس نے واضح شکست آتے دیکھ کر صاف انکار کر دیا۔ George Ha hchenschmdit روسی پہلوان تھا۔

وہ بھی گامے کے سامنے آنے کی جرأت نہ کر سکا۔ دراصل گاما‘ کسی سے بھی ہارتا نہیں تھا۔ اس نے امریکا‘ یورپ کے تمام طاقتور پہلوان کو پچھاڑ کر رکھ دیا تھا۔ جس میں Maurice Deriaz , Benjamin Rollker اور Johan Lemm جیسے قد آور لوگ بھی تھے۔ گاما علی الصبح روشنی ہونے سے پہلے اکھاڑے میں چلا جاتا تھا۔ حسب دستور ‘ مٹی کو ایک خاص ترتیب میں صاف کرتا تھا۔ بعدازاں ‘ پانچ ہزار بیٹھکیں لگاتا تھا۔ساتھ ساتھ تین ہزار ڈنڈ پیلتا تھا۔ یہ صرف ایک وقت کی ورزش تھی۔ طاقت کا اصل راز ورزش میں چھپا ہوا تھا۔ مشقت کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ پانچ وقت کا نمازی انسان تھا۔ شریعت پر عمل کرتا تھا۔ گامے کی ورزش کے متعلق مزید بات کرنی بہت ضروری ہے۔ عمومی طور پر‘ دن میں دس سے پندرہ گھنٹے ورزش کرتا تھا۔ ڈنڈ بیٹھکوں کے متعلق گزارش کر چکا ہوں۔

اس کے علاوہ‘ پانچ من کے پتھر کا ایک پاٹ کو رسے سے باندھا گیا تھا۔روزانہ‘ گلے میں ڈال کر‘ ایک میل چکرلگایا جاتا تھا۔ پہلوانوں کی دنیا کے مصنف‘ برکت علی رقم دراز ہیں کہ صبح دو بجے سے دس بجے تک‘ گاما جسم کے نچلے حصے کی ورزش کرتا تھا۔ پھر شام کو چار یا پانچ گھنٹے اوپر والے حصے کو پختہ بناتاتھا۔ شام کو دو گھنٹے کی سیر‘ اس کے علاوہ تھی۔ ویسے ناقابل یقین حد تک معاملات تھے۔ ذرا خوراک کی طرف آیئے۔ پندرہ لیٹر دودھ کی سردائی سے شروعات ہوتیں۔ چھ دیسی مرغے یا دو سے چھ کلو گرام ‘ چھوٹا گوشت بھی کھایاجاتا ۔ آدھا لیٹر دیسی گھی‘ تین سے چھ پاونڈ تازہ مکھن‘ اس کے علاوہ تھا۔گاما‘ باداموں کا بہت شوقین تھا۔ ڈیڑھ پاؤنڈ سے لے کر 9 پاؤنڈ تک بادام صرف صبح کی غذا کا حصہ تھے۔ جس دن روٹیاں کھانے کا من ہوتا تھا۔ تو گاما پہلوان ستر سے سو پھلکے کھا جاتا تھا۔

روزانہ کا یہ خرچہ‘ کسی بھی آدمی کے لیے اٹھانا بہت مشکل تھا۔ چنانچہ اس زمانے کے دستور کے مطابق ‘ پہلوان‘ نمایاں کھلاڑی اور دیگر فنکار لوگ مختلف ریاستوں کے شاہی درباروں سے منسلک ہو جاتے تھے۔جہاں ریاست‘ ان کا خرچہ اٹھاتی تھی۔ اوائل عمری میں گاما ‘ دتیا کے دربار میں پہلوان مقرر ہوا۔ مختلف ریاستوں کے پہلوانوں کو ہراتے رہا ۔ مسلسل کامیابیوں سے اس کی شہرت ہندوستان کے علاوہ‘ پوری دنیا میں پھیل چکی تھی۔ بھوپال کی ریاست میں بھی قیام پذیر رہا۔ جہاں راجا پرتاب سنگھ سرپرستی کرتا رہا۔ بھوپال میں پہلوان استاد‘ جس کا نام جبران سنگھ بھکی والے نے گامے کو متعدد داؤ پیچ سکھائے۔

یہاں‘ گامے کی لندن میں ایک کشتی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ لندن میں اعلان کر دیا کہ بیک وقت تین مشہور ترین پہلوانوں سے لڑے گا۔ محض آدھے گھنٹے میں ان کو دھول چٹا دے گا۔ اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت کسی کو بھی نہیں ہوئی۔ دنیا کے مضبوط ترین پہلوان‘ Zbysko نے اس کا چیلنج قبول کر لیا۔ یہ اس کی تاریخی غلطی تھی۔ دس ستمبر 1910 میں کشتی ہوئی۔ یہ John Bull ورلڈ چیمپئن شپ کا فائنل تھا۔ انعام‘ 250 برطانوی پاؤنڈ تھا۔ مقابلہ شروع ہوا ۔ صرف ایک منٹ میں گامے نے زبسکو کو لٹا دیا۔ وہ ہار نہیں مان رہا تھا۔ دو گھنٹے بیس منٹ تک وہ اسی پوزیشن میں رہا۔ گامے نے ایک ایسا داؤ استعمال کیا تھا کہ زبسکو اس پورے دورانیہ میں اٹھ کر کھڑا نہ ہو سکا۔ دراصل‘ وہ زمین پر لیٹ کر گامے کی جسمانی قوت سے بچنا چاہتا تھا۔

اس مقابلے کو برابر قرار دیا گیا۔ مگر کچھ عرصے بعد‘ گامے کا دوبارہ اس سے مقابلہ تھا۔ زبسکو نے وہاں سے راہ فرار اختیار کر لی۔ لڑنے کی ہمت ہی نہ کر سکا۔ اس یک طرفہ کشتی کے بعد گامے پہلوان کو رستم زماں کا ٹائٹل دیاگیا۔ ساتھ ساتھ جان بل کی گولڈن پیٹی بھی انعام میں پیش کی گئی۔ یہ رستم ہند کا رستم زمان ‘ یعنی دنیا کے ناقابل شکست پہلوان بننے کی معمولی سی جھلک تھی۔ گاما‘ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آ گیا۔ اس کے پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔

تمام بیٹے‘ اوائل عمری میں ہی فوت ہو گئے۔ سب سے چھوٹے برخوردار ‘ جلال الدین کے انتقال کے بعد ‘ گامے کا دل مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔ بٹوارے میں‘ اس نے سیکڑوں مسلمان اور ہندوؤں کو قتل ہونے سے بچایا۔ گامے کو آخری عمر تک حکومت کی طرف سے وظیفہ ملتا رہا۔ 1962 میں کشتیوں کا سلطان ‘ جس نے پوری زندگی میں پانچ ہزار کشتیاں جیتیں ‘ خالق حقیقی کے پاس چلا گیا۔ فن پہلوانی میں یکتا انسان ‘ اپنے پیچھے صرف اور صرف دیو مالائی داستانیں چھوڑ گیا۔

کشتی کے فن کو پاکستان میں بہت سے لوگوں نے جلا بخشی۔ مگر آہستہ آہستہ حکومت کی سرپرستی اسے حاصل نہ رہ پائی۔ موجودہ حالات میں یہ عظیم فن‘ تقریباً اپنی موت مر چکا ہے۔ گجرانوالہ اور لاہور کے پرانے اکھاڑے ویران ہو چکے ہیں۔ کوئی بھی‘ اس خار دار میدان میں نہیں آنا چاہتا۔ جس طرح‘ ہماری نیم مردہ حکومتیں‘ تمام اچھے کھیلوں سے دشمنی کرتی ہیں۔ انھیں اجاڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ بالکل ‘ اسی طرح یہ فن بھی گرہن زدہ ہو چکا ہے۔ کھیلوں کی دنیا میں یہ ایک عظیم سانحہ ہے۔ مگر کسی کو بھی اس کی پرواہ نہیں۔ دراصل ہم تمام لوگ‘ جب ایک حادثہ سے گزرتے ہیں۔ تو اس سے بھی بڑا سانحہ ‘ سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ جائیں تو جائیں کہاں! زمین تنگ کر دی گئی ہے!