بھارت میں Mob Lynchingکی المناک دستاویز

معروف بھارتی دینی مدارس( از قسم ’’مدرسۃ الاصلاح ‘‘ اور’’ دارالعلوم ندوۃ العلماء‘‘) سے مروجہ دینی تعلیم حاصل کی


تنویر قیصر شاہد October 05, 2026
[email protected]

پہلے اِس چشم کشا کتاب کے مصنف و مرتّب کا تعارف۔ اِن کا اسمِ گرامی ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ہے۔ عمرتقریباً 77برس ۔ بھارتی مسلمان ہیں۔ بھارت کے ایک نامور دینی گھرانے میں پیدا ہُوئے ۔ معروف ترین بھارتی عالمِ دین ، درجنوں مشہور کتابوں کے مصنف اور مفسرِ قرآن ، حضرت مولانا وحید الدین خان ، کے صاحبزادے ہیں۔ معروف بھارتی دینی مدارس( از قسم ’’مدرسۃ الاصلاح ‘‘ اور’’ دارالعلوم ندوۃ العلماء‘‘) سے مروجہ دینی تعلیم حاصل کی ۔قاہرہ ( مصر) کی ’’جامعہ الازہر‘‘ سے علومِ اسلامیہ و عربی زبان کی ڈگری حاصل کی ۔ اور پھر مانچسٹر یونیورسٹی (برطانیہ)سے، 1987میں پی ایچ ڈی کی۔ ظفر الاسلام خان صاحب اسلامک اسٹڈیز، مشرقِ وسطیٰ و عالمِ عرب کے امور پر تخصص رکھتے ہیں۔

اب تک 50سے زائدکتابیں لکھ چکے ہیں۔ اِن تصنیفات میں اُن کی ترجمہ شدہ کتابیں بھی شامل ہیں ۔ قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ سیاسی طور پر بھی معروف ہیں ، یوں کہ دہلی میں معرضِ عمل میں آنے والے ’’دہلی اقلیتی کمیشن‘‘ کے چار سال تک چیئرمین رہے ہیں ۔’’ آل انڈیا مجلسِ مشاورت‘‘ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ۔ایک پندرہ روزہ انگریزی اخبار The Milli Gazetteکے ایڈیٹر و پبلشر بھی رہے ‘ ایک اُردو جریدے ’’معارف‘‘ کے شریک مدیر بھی۔ این جی او Charity Alliance کی بنیادیں بھی رکھیں۔ لندن میں مشہور مسلمان صحافی و دانشور اور ایکٹوسٹ ، ڈاکٹر کلیم صدیقی(جنھوں نے 1992 میں برطانوی پارلیمنٹ کے مقابل ’’مسلم پارلیمنٹ‘‘ کی بنیادیں رکھیں) کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

ایسا شاندار اور قابلِ فخر علمی ، دینی، صحافتی اور سیاسی پس منظر رکھنے والے جناب ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے  700سے زائد صفحات کی حامل ایک ایسی کتاب مرتّب و ایڈٹ کی ہے جس نے بھارت و پاکستان سمیت ساری دُنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔یہ کہنا ، بلکہ، زیادہ مناسب ہوگا کہ اِس تحقیقی و جرأتمندانہ کتاب نے دُنیا بھر کے سامنے نریندر مودی، بی جے پی اور انڈین اسٹیبلشمنٹ کے منہ پر کالک مَل دی ہے۔ اِس انکشاف خیز کتاب کا عنوان ہے :Mob Lynching in Indiaیہ کتاب دراصل بھارت میں پچھلے دس سالہ ریکارڈ (2014تا2024) پر مشتمل ہے۔

یہ المناک و اشکبار ریکارڈ ہمیں وہ حقیقی داستان سناتی ہے کہ مذکورہ ایک عشرے کے دوران بھارتی اقلیتوں (مسلمانوں، مسیحیوں، دلتوں اور سکھوں) پر اکثریتی و متعصب ہندوؤں نے کس قدر مظالم ڈھائے ہیں۔ بھارتی کمزور و بے بس اقلیتوں کے خلاف اِن مظالم اور استحصالی اقدامات کے لیے مقتدر بھارتی مذہبی جماعتوں ( از قسم بی جے پی، وی ایچ پی اور آر ایس ایس) کی اشیرواد اور سر پرستی حاصل رہی ہے۔ اِسی کارن ظالموں کے خلاف کوئی خاص و قابلِ ذکر کارروائی ہُوئی نہ کوئی مجرم کیفرِ کردار تک پہنچا۔ بھارتی عدالتیں بھی دانستہ Mob Lynching ایسی ہلاکت خیز وارداتوں کے مرتکبین کے بارے تقریباً خاموش ہی رہیں ۔ اِسی وجہ سے موب لنچنگ کی یہ وارداتیں روز افزوں دیکھنے میں آتی رہی ہیں ۔

لغت میں b Lynching Moکا معنی یہ ہے : عوام یا کسی ہجوم کی طرف سے قانون کو ہاتھوں میں لے کر کسی مبینہ مجرم کو بغیرکسی قانونی کارروائی یا عدالتی ٹرائل کے موقع پر ہی سزا دینا یا قتل کر دینا!اِس عمل کو ’’عوامی تشدد‘‘ یا ’’ہجوم کا تشدد‘‘ یا ’’ماورائے عدالت قتل‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے اپنی اِس تازہ ترین مرتّب کردہ تحقیقی کتابMob Lynching in Indiaمیں، مستند ذرائع و قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر، 1743دل دہلا دینے والے واقعات و سانحات کا ذکر کیا ہے ۔زیادہ تر ذکر کردہ لنچنگ کے سانحات مودی جی کے دَورِ حکومت میں وقوع پذیر ہُوئے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سے زائد یہ خونریز واقعات مودی اور بھارت بھر میں بی جے پی کی حکومتوں کے چہرے پر بد نما داغ دھبے ہیں ۔ اِنہی داغوں کی ’’بہار‘‘ کی اساس پر ساری دُنیا میں مودی جی اور اُن کی حکومت پر پھٹکار پڑ رہی ہے ۔

موب لنچنگ یا ہجومی تشدد کی یہ جان لیوا وارداتیں بھارت کے کمزور مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں اور دَلتوں کے خلاف سامنے آئے ہیں۔یہ کتاب دراصل مقتدر بھارتی ہندوتوا جماعتوں کی بھارتی اقلیتوں کے خلاف Hate Speechesکی بھی دستاویزی شہادتیں ہیں ۔ یہ شہادتیں مرتّب و ایڈٹ کردہ جناب ظفر الاسلام کی ساتھی محققین کی ٹیم کی محنتوں کا ثمر ہیں ۔ اِس پر دس سال صَرف ہُوئے ہیں۔ موب لنچنگ کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی اِن شہادتوں کو بھارت بھر کے بڑے بڑے اخبارات، معتبرنیوز پورٹل اور قابلِ اعتماد سوشل میڈیا سے اکٹھا کیا گیا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت میں منصہ شہود پر آنے والی موب لنچنگ کی اِن وارداتوں کے خلاف بھارتی مسلمان قیادت نے خاموش رہنے میں مصلحت سمجھی ۔ یہ قیادت پاکستان کے خلاف تو ترنت زبان کھول دیتی ہے ، مگر موب لنچنگ کے مجرموں ( جو صاف جانے پہچانے جاتے ہیں) کے خلاف لب کھولتے ہُوئے سہم جاتی ہے ۔ موب لنچنگ کے یہ سانحات بھارت میں اب اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ اب یہ بھارت کا ’’نیو نارمل‘‘ بن گیا ہے۔

اب بھارتی مسلمانوں ، مسیحیوں اور دَلتوں کے خلاف موب لنچنگ ہوتی ہے تو بھارتی اخبارات سانحہ کو اخبار کے اندرونی صفحات میں بطور سنگل کالمی خبر شائع کرتے ہیں ۔ بھارت میں خاص طور پر موب لنچنگ کے سانحات (1) مخالف ذاتوں کے مابین شادی کرنے پر (2) مذہب کی تبدیلی پر (3) Love Jihadکے نام پر (4) گاؤ ماتا رکھشا کے بہانے پر (5) مویشیوں کا کاروبار کرنے والے مسلمان تاجروں کے خلاف اِس الزام پر کہ یہ ’’مقدس‘‘ گائے فروخت کرکے اِس کا گوشت کھا جاتے ہیں، کے الزامات کی بنیاد پر سامنے آ رہے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ اب تک ’’گاؤ ماتا رکھشا‘‘ کے بہانے تلے بھارت میں مویشیوں کا کاروبار کرنے والے مسلمانوں سے اربوں روپے لُوٹے جا چکے ہیں اور کسی حکمران ، عدالت نے اُن کی شنوائی نہیں کی ۔ مسلمان اور دَلت سہم کر رہ گئے ہیں۔

دَلتوں کی تو پھر بھی کہیں نہ کہیں شنوائی ہو جاتی ہے ، مگر بھارتی مسلمان بے پتوار جہاز کی طرح بھارتی مقتدر ہندو جماعتوں کی نفرت و حقارت اور غصے کے سمندر میں بے بسی سے بہتے چلے جا رہے ہیں۔کوئی بھارتی سیاسی جماعت یا بھارتی مسلمان قائد یا بھارتی حکمران اِن مظلوموں کے آنسو نہیں پونچھ رہا۔ موب لنچنگ کے سانحات غریب بھارتی مسلمانوں کے خلاف بھارتی بسوں اور ٹرینوں میں بھی ہُوئے ہیں ۔ اُنہیں بے بنیاد الزامات پر درختوں سے لٹکا کر پھانسیاں بھی دی گئی ہیں۔ مظلوم مسلمانوں سے ’’‘جئے شری رام‘‘ کے نعرے بھی لگوائے گئے ، مگر پھر بھی اُن کی جان بچی نہ مال۔    

جناب ظفر الاسلام کی یہ زیر تبصرہ کتاب کی جتنی بھی تحسین کی جائے ، کم ہے ۔تقریباً ڈیڑھ دو سو سال قبل امریکہ میں ’’اژدھامی قتل‘‘ یا ’’موب لنچنگ ‘‘ کے سانحات عام تھے ۔ زیادہ تر غریب و غلام سیاہ فام امریکی ہی ، سفید فام امریکیوں کے ہاتھوں، موب لنچنگ کا ہدف بنا کرتے تھے ۔ راقم الحروف نے خود کانگریس لائبریری(واشنگٹن) میں اِس ظلم کے تصویری مشاہدات کررکھے ہیں۔ اِس موضوع پر لاتعداد کتابیں لکھی اور کئی فلمیں بن چکی ہیں ۔ پھر امریکہ نے رفتہ رفتہ، قانون سازی کے ذریعے، غلامی ختم کی تو موب لنچنگ کی لعنت بھی ختم ہو گئی ۔ مگر داد دینی چاہیے کہ بھارت ایسے استبدادی ملک میں Mob Lynchingایسی کتاب شائع ہو گئی ہے ۔مگر سچ وہی ہے جو اپنے بارے بھی بولا جائے ۔ اور سچا مگر تلخ سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں مستند شہادتوں کی اساس پر مبنی ایسی دستاویزی کتاب شائع ہو سکتی ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ آیا پاکستان میں موب لنچنگ کا کوئی واقعہ اور سانحہ کبھی ظہور پذیر نہیں ہُوا ؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستان میں بھی اژدھامی قتل یا موب لنچنگ کے متعدد سانحات واقعات ہو چکے ہیں؟ کبھی کاروکاری کے نام پر ، کبھی غیرت کے نام پر ، کبھی توہینِ مذہب کے نام پر۔ ہم سب اگر یہ سانحات بھُول چکے ہیں تو حقائق کو جھٹلایا ، محو یا مسخ نہیں کیا جا سکتا ۔ ذرا ’’گوگل‘‘ یا ’’چیٹ جی پی ٹی‘‘ پر پاکستان میں موب لنچنگ کا عنوان لکھئے اور پھر یہ حیرت کدہ بھی کھلتا دیکھئے کہ اِس تلخ موضوع پر واقعات و سانحات کی ایک لمبی فہرست ہمارے سامنے آ کر ہمارا منہ چڑاتی ہے ۔ہمیں اپنی منجی کے نیچے بھی ڈانگ پھیر کر دیکھ لینی چاہیے !