یمنی فوج نے باب المندب کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کردیا

حوثی فورسز کی جانب سے حالیہ پیش قدمی کے بعد جنگ میں ایک بار پھر شدت آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے


ویب ڈیسک October 05, 2026

یمن میں حوثیوں کے خلاف سرکاری فورسز کی بڑی فوجی کارروائی شروع ہوگئی ہے، جسے ’’فجر الیمن‘‘ یا ’’یمن ڈان‘‘ آپریشن کا نام دیا گیا ہے۔

یمنی حکومت کی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے ذوباب اور باب المندب کے قریب اہم پوزیشنوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق حکومتی فورسز، سدرن جائنٹس بریگیڈز اور نیشنز شیلڈ فورسز سمیت، باب المندب کے علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذوباب ایئرپورٹ بھی حکومتی فورسز کے قبضے میں آ گیا ہے جبکہ ذوباب اور المخا کے درمیان راستہ بھی کاٹ دیا گیا ہے۔ تاہم حوثیوں نے حکومتی فورسز کی پیش قدمی کے دعوے کی تردید کی ہے، اس لیے میدانِ جنگ کی صورت حال کے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ ’’یمن ڈان‘‘ آپریشن میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور کارروائی کے آغاز سے اب تک حوثیوں کے 324 اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی قیادت میں اتحادی افواج یمنی زمینی فورسز کو مسلسل فضائی معاونت فراہم کررہی ہیں۔

اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ باب المندب آبنائے کو بھی فضائی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے جبکہ متحرک اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی فریق کا کنٹرول حاصل کرنا یمن کی جنگ کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی بحری تجارت کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

یمن کی حکومت نے اس بڑے آپریشن کا آغاز ملک میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے اور سرکاری اداروں کا کنٹرول بحال کرنے کے مقصد سے کیا ہے۔ یمنی صدر رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے راستے ختم ہونے کے بعد فوجی کارروائی شروع کی گئی۔ دوسری جانب حوثی فورسز کی جانب سے حالیہ پیش قدمی کے بعد جنگ میں ایک بار پھر شدت آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔