امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا میں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی بڑی وجہ اب آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں خلل کے بجائے عالمی سطح پر ریفائننگ کی محدود صلاحیت ہے۔
ان خیالات کا اظہار صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری پوسٹ میں کیا۔ انھوں کہا کہ امریکا میں ایندھن کی رسد پر دباؤ کی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکا میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ روس کی ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں اور اپوزیشن جماعت کے زیر اقتدار ریاستوں میں ریفائنریوں کی بندش کو قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل گزشتہ چند ہفتوں کے دوران نمایاں طور پر بحال ہوئی ہے اور بعض اوقات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔
صدر ٹرمپ کے بقول اس لیے امریکا میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی رسد میں کمی کی موجودہ صورتحال کو صرف آبنائے ہرمز میں خلل سے جوڑنا درست نہیں ہے۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق بھی اگرچہ خام تیل کی عالمی سپلائی میں بہتری آئی ہے تاہم ریفائنریوں کی بندش اور پیداوار میں رکاوٹوں کے باعث خام تیل کو پیٹرول، ڈیزل اور دیگر تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جو دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل و گیس کی قلت ہوئی اور قیمتیں بڑھ گئیں۔