میر رضا کیس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی شروع کی، گلستان جوہر کا رہائشی گواہ محمد ریاض کمیشن میں پیش ہوئے۔
محمد ریاض نے کہا کہ میں وہاں ایک گھر میں چوکیداری کرتا ہوں، کمیشن نے پوچھا کہ جہاں آپ نوکری کرتے ہیں وہ جگہ مسجد خضراء کے قریب ہے ؟ ریاض نے جواب دیا کہ میں صبح 8 بجے جاتا ہوں پھر گھر آتا رہتا ہوں ، 29 کی رات کو 3 بج کر 24 یا 28 منٹ کا وقت کا تھا۔
ریاض نے کہا کہ میں اوپر چھت پر جاکر سگریٹ پی رہا تھا ایک گاڑی دیکھی آلٹو اور ایک گاڑی ایگزیو دیکھی تھی ، جب دوسری مرتبہ گاڑی اوپر چڑھانے کی کوشش کررہا تھا، کیا آپ نے کسی کی شکل دیکھی تھی، کمیشن نےپوچھا کہ کتنے بندے تھے وہاں پر ،ریاض نے جواب دیا کہ ایک بندہ تھا اس نے گالی دے کر کہا کہ تم سے گاڑی اوپر نہیں چڑھ رہی ، دونوں گاڑیوں کا کلر سفید تھا۔
کمیشن نے پوچھا کہ اس پہلے وہاں پر آپ نے گاڑیاں وہاں دیکھی تھی، نہیں میں اس سے پہلے وہاں یہ گاڑیاں نہیں دیکھی تھی ایک مؤثر سائیکل بھی اس دوران گزری تھی ، کوئی نشہ وغیرہ کرتے ہیں آپ ، ریاض نے جواب دیا کہ نہیں میں کوئی نشہ نہیں کرتا ہوں۔
ایڈووکیٹ جبران ناصر نے سوال کیا کہ کیا پولیس آپ کے گھر آئی تھی، ریاض نے کہا کہ جی میں سنا تھا لڑکوں سے کہ پولیس آئی تھی پوچھ گچھ کررہی تھی ،جبران ناصر نے کہا کہ مشکوک گاڑی کا نمبر ہم نے پولیس کو دیا ہے کسی طارق صاحب کے نام پر تھی ، دو سال سے گاڑی کا ٹیکس نہیں بھرا گیا اس گاڑی کا نمبر بی ایس کے099 نمبر ہے۔