جرمنی کے سابق انٹیلیجنس سربراہ کو غداری کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا

پراسیکیوٹرز کے مطابق مینفریڈ ڈی نے کئی برسوں کے دوران رقم کے عوض ہیننگ کو تقریباً 2 ہزار خفیہ دستاویزات فراہم کیں


ویب ڈیسک October 07, 2026

برلن: جرمنی کے سابق غیر ملکی انٹیلیجنس ادارے ’بی این ڈی‘ کے سربراہ اگست ہیننگ کو جاسوسی، ریاستی راز حاصل کرنے اور غداری کی کوشش کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جرمن وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق اگست ہیننگ نے 1998 سے 2005 تک BND کی سربراہی کی تھی۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد وہ نجی شعبے میں سکیورٹی کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

حکام کا الزام ہے کہ ہیننگ نے ایک غیر ملکی خفیہ ادارے کے لیے تجزیہ تیار کرنے کی غرض سے خفیہ معلومات استعمال کیں اور ایک غیر ملکی انٹیلیجنس سروس کے اہلکار سے بھی رابطے میں رہے۔ تاہم جرمن حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ طور پر کون سا غیر ملکی ادارہ اس معاملے میں ملوث تھا۔

اس کیس میں ایک سابق BND اہلکار مینفریڈ ڈی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق وہ ہیننگ کے سابق چیف آف اسٹاف تھے اور بعد میں بھی BND میں اہم عہدے پر کام کرتے رہے، جس کے باعث انہیں حساس معلومات تک رسائی حاصل تھی۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق مینفریڈ ڈی نے کئی برسوں کے دوران رقم کے عوض ہیننگ کو تقریباً 2 ہزار خفیہ دستاویزات فراہم کیں۔ ان میں بعض انتہائی حساس معلومات بھی شامل تھیں، جبکہ بعض دستاویزات میں ایران کے جوہری پروگرام اور روسی فوج سے متعلق معلومات موجود ہونے کی رپورٹ ہے۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ہیننگ نے ان معلومات کو اپنی نجی مشاورتی سرگرمیوں میں استعمال کیا اور کم از کم ایک موقع پر انہی معلومات کی بنیاد پر ایک غیر ملکی انٹیلیجنس سروس کے لیے سکیورٹی تجزیہ بھی تیار کیا۔

جرمن میڈیا کے مطابق ہیننگ کو مغربی جرمنی کے شہر منسٹر کے قریب نورڈوالڈے میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ مینفریڈ ڈی کو ریاست باویریا سے حراست میں لیا گیا۔ دونوں کے خلاف مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق اس حساس معاملے کا سراغ ایک دوسری تفتیش کے دوران ملا۔ 2025 میں ایک الگ کیس کے سلسلے میں ہیننگ کے گھر اور دفاتر کی تلاشی لی گئی تھی، جہاں تفتیش کاروں کو ایک الیکٹرانک ڈیوائس سے BND کی انتہائی خفیہ دستاویزات ملیں۔ بعد ازاں یہ مواد وفاقی حکام کے حوالے کیا گیا اور مئی 2026 میں ہیننگ اور مینفریڈ ڈی کے خلاف خفیہ تحقیقات شروع کی گئیں۔

اگر الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو یہ جرمنی کے انٹیلیجنس ادارے کے لیے انتہائی سنگین معاملہ تصور کیا جا سکتا ہے، کیونکہ پہلی بار BND کے سابق سربراہ جیسے اعلیٰ عہدے دار پر غداری اور جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ تمام الزامات تفتیش کے مرحلے میں ہیں۔