ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم غائب؛ عدالت کا صارف کو رقم واپس کرنے کا حکم

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اپنے الیکٹرانک پیمنٹ سسٹم اور صارف کے فنڈز کی حفاظت میں ناکام رہا ہے، عدالت کا فیصلہ


ویب ڈیسک October 07, 2026

پشاور:

صارف عدالت نے شہری کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے غیر قانونی ٹرانزیکشن کے خلاف دائر درخواست پر تحریری یکطرفہ فیصلہ جاری کردیا۔

صارف عدالت کے جج نصر اللہ گنڈاپور نے ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو مدعی کے اکاؤنٹ سے غیر قانونی طور پر منتقل ہونے والے 40 ہزار روپے فوری واپس کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ذہنی اذیت، پریشانی اور قانونی اخراجات کے ازالے کے طور پر ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو 25 ہزار روپے بطور ہرجانہ مدعی کو ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ بینک کی غفلت پر عدالت نے حکومت کو مزید 25 ہزار روپے بطور جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

فیصلے کے مطابق دسویں جماعت کے طالب علم فہد الرحمان نے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے بتایا کہ وہ 14 فروری کو گھریلو ضرورت کے لیے 50 ہزار روپے نکلوانے گیا تو اس کے اکاؤنٹ میں صرف 11 ہزار روپے موجود تھے۔

درخواست گزار کے مطابق اکاؤنٹ ہسٹری چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے 3 الگ الگ غیر قانونی ٹرانزیکشنز ہوئی تھیں۔ فہد الرحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ نہ اس نے یہ ٹرانزیکشنز کیں اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کو اس کی اجازت دی تھی۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے بتایا کہ اس کا اکاؤنٹ کسی ہیکر کا شکار بھی نہیں ہوا جبکہ ایزی پیسہ کی جانب سے ٹرانزیکشنز کی کوئی نوٹیفکیشن بھی موصول نہیں ہوئی۔ اس نے ایزی پیسہ ہیلپ لائن سے رابطہ کیا، تاہم اسے کوئی مثبت مدد نہیں ملی۔

ایزی پیسہ بینک کی جانب سے عدالت میں کوئی نمائندہ پیش نہیں ہوا، جس کے بعد عدالت نے یکطرفہ کارروائی کی۔ مدعی نے اپنے دعوے کے حق میں تمام دستاویزی ثبوت، ٹرانزیکشن رسیدیں، ای میلز اور قانونی نوٹس کی نقول عدالت میں پیش کیں۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اپنے الیکٹرانک پیمنٹ سسٹم اور صارف کے فنڈز کی حفاظت میں ناکام رہا ہے۔