ہوزری اور نٹ ویئر کی برآمدی صنعت کو چیلنجز کا سامنا

برآمد کنندگان کیلیے بین الاقوامی خریداروں کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے


احتشام مفتی October 07, 2026

کراچی:

پاکستان کی ہوزری ونٹ وئیر ایکسپورٹ انڈسٹری بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، ریفنڈز میں تاخیر اور ریگولیٹری وکمپلائنس اخراجات میں اضافے سے عالمی مسابقتی حیثیت میں تنزلی کاشکار ہوگئی ہے۔

پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے اہم برآمدی شعبے کی مسابقتی حیثیت اور برآمدی آرڈرزکو محفوظ بنانے کیلیے ہنگامی اقدامات بروئے کار لانے کامطالبہ کردیاہے۔

یہ مطالبہ پی ایچ ایم اے کے سینٹرل چیئرمین ضیا علمدار حسین نے وفاقی سیکریٹری تجارت کو ارسال کردہ میں کیا ہے۔

خط میں وزارت تجارت سے مطالبہ کیاگیاکہ فوری طور پر ایک مشاورتی اجلاس طلب کیاجائے، جس میں پی ایچ ایم اے کے نمائندگان کے ساتھ وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک ، ایف بی آر و متعلقہ سرکاری اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں، تاکہ ہوزری اور نٹ ویئرکے برآمدی شعبے کو درپیش مشکلات کاجائزہ لیکر برآمدی آرڈرز اور پاکستان کی مسابقتی حیثیت کے تحفظ کیلیے عملی اقدامات وضع کیے جاسکیں۔

خط میں انکشاف کیاگیاکہ فی الوقت اپیرل، ہوزری اورنٹ ویئرکی صنعت کو پیداواری لاگت میں تاریخی اضافے،انتہائی بلند فریٹ چارجز، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ بلندتوانائی نرخوں، بھاری ٹیکسوں، لیکویڈٹی مسائل، علاقائی ممالک سے بڑھتی مسابقت اور عالمی منڈی میں کمزورطلب جیسے متعددچیلنجزکاسامنا ہے،پاکستانی برآمدکنندگان کیلیے عالمی مارکیٹ میں مسابقت برقراررکھنا،نئے آرڈرز حاصل کرنااور موجودہ بین الاقوامی خریداروں کو برقراررکھنامشکل ہوتاجارہاہے۔

خط میں بتایاگیاکہ سی فریٹ میں غیرمعمولی اضافے نے بھی پاکستان کی برآمدی مسابقت کومزیدمتاثرکیاہے، اہم عالمی منڈیوں کیلیے فریٹ ریٹس میں 1.5 سے 2.5 گنا تک اضافہ ہواہے،جس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات کی لینڈڈ کاسٹ میں نمایاں اضافہ ہوگیاہے، برآمدکنندگان کو یا تو یہ اضافی لاگت خود برداشت کرنا پڑرہی ہے۔