افغانستان میں امریکی واپسی، طالبان کیلیے روسی نرم گوشے کی وجہ

ماسکو کی مصالحت دانستہ، افغان طالبان سے متعلق خدشات سے دستبردار نہیں ہوا


کامران یوسف October 08, 2026

اسلام آباد:

سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے افغان طالبان کیلیے نرم رویے کی وجہ اسٹرٹیجک مقاصد ہیں، ماسکو کو خدشہ ہے کہ امریکا افغانستان میں دوبارہ قدم جما سکتا ہے، جسے روکنے کیلیے ایک پالیسی کے تحت افغان طالبان کیساتھ نرمی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

انھوں نے یہ تاثر سختی سے مسترد کر دیا کہ روس افغان طالبان کے حوالہ سے اپنی پالیسی بڑی تبدیلی پر غور کر رہا ہے۔ 

ماسکو فارمیٹ اجلاس میں بات چیت کے حوالہ سے ذرائع نے بتایا کہ اس اجلاس میں روس نے دانستہ افغان طالبان کیلئے مصالحت آمیز لہجہ اختیار کیا، جس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ماسکو نے طالبان حکومت کے حوالہ سے اپنے خدشات سے دستبردار ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کیلئے نرم روسی لہجے کی وجہ یہ خدشہ تھا کہ کابل پر زیادہ دبائو سے طالبان حکومت کا جھکائو واشنگٹن کی جانب بڑھ سکتا ہے، روس ہر حال میں امریکا کو افغانستان میں دوبارہ قدم جمانے سے روکنا چاہتا ہے، اس لئے  طالبان حکومت کیساتھ کام کر رہا، اس میں محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے نرمی و سختی دونوں سے کام لے رہا ہے۔

ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کے حوالہ سے روسی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاک روس مشترکہ فوجی مشقیں حال ہی میں ختم ہوئی ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو فارمیٹ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کی وجہ افغان طالبان کیساتھ اختلافات تھے، پاک روس اختلاف وجہ نہیں، مشترکہ اعلامیہ نہ جاری پر روس بھی ناخوش تھا۔

جبکہ گزشتہ سال کے اجلاس میں  کے اعلامیہ کے الفاظ پر طالبان نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، حالیہ اجلاس کے اعلامیہ میں انہی الفاظ کے استعمال پر زور دیا تھا، جس پر طالبان نے اتفاق نہ کیا اور اجلاس بغیر اعلامیہ کے ختم ہو گیا۔