واشنگٹن: امریکی تحقیقاتی ویب سائٹ ڈراپ سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک خفیہ اسسمنٹ میں اسرائیل کو مستقبل میں شدید اندرونی بحران، خانہ جنگی اور ریاستی سطح پر تباہی جیسے خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’’Fracture From Within‘‘ کے عنوان سے یہ جائزہ اگست میں سی آئی اے کے ریڈ سیل ماہرین نے تیار کیا۔ ڈراپ سائٹ کا کہنا ہے کہ اسے رپورٹ کے مندرجات سے واقف دو امریکی ذرائع نے اس بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق سی آئی اے کا ریڈ سیل روایتی انٹیلی جنس تجزیوں سے ہٹ کر متبادل نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔ مبینہ رپورٹ میں اوپن سورس معلومات کے ساتھ امریکی انٹیلی جنس مواد کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیل کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی، معاشی اور سماجی تقسیم کو اہم خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس میں غزہ میں طویل جنگ، لبنان اور ایران کے ساتھ تنازعات، بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات، معاشی دباؤ اور طویل جنگوں سے واپس آنے والے فوجیوں کے نفسیاتی مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔
مبینہ تجزیے میں الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی سروس سے حاصل استثنیٰ بھی ایک بڑے داخلی تنازع کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بار بار ریزرو فوجیوں کو جنگ کے لیے طلب کیے جانے کے باعث ان طبقات میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ انہیں مسلسل جنگ میں بھیجا جارہا ہے جبکہ بعض مذہبی گروہوں کو فوجی سروس سے استثنیٰ حاصل ہے۔
رپورٹ میں اسرائیل کی معیشت پر جنگ کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، بلند فوجی اخراجات اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی نے عوامی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی سیاسی صورتحال بھی مبینہ رپورٹ کے جائزے میں شامل ہے۔ ڈراپ سائٹ کے مطابق نیتن یاہو کے مخالف سیاسی حلقوں میں بھی اختلافات موجود ہیں، جبکہ 7 اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی اور جنگ سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر وزیراعظم کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیل کی ممکنہ سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے 27 اکتوبر کے انتخابات کے تناظر میں بھی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ڈراپ سائٹ کے مطابق حالیہ سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو اور ان کے مخالف بلاک دونوں کے لیے حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنا یقینی نہیں۔
مبینہ سی آئی اے تجزیے میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کو بھی ایک طویل مدتی خطرے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی سطح پر حمایت میں کمی، خصوصاً امریکا میں ممکنہ طور پر کم ہوتی حمایت، اسرائیل کے لیے مستقبل میں مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
رپورٹ میں مختلف ممکنہ منظرناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل کے اندر موجود دراڑیں مزید گہری ہوئیں تو کوئی بڑا واقعہ سیاسی کشیدگی کو کھلے اندرونی تنازع میں تبدیل کرسکتا ہے۔ ایسے حالات میں غیر ملکی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری یا عملے کو اسرائیل سے منتقل کرنا بھی معاشی بحران کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
ڈراپ سائٹ کے مطابق علاقائی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی حکمت عملی پر بھی نظرثانی کرسکتے ہیں، جبکہ حماس یا حزب اللہ اسرائیل کی ممکنہ داخلی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہیں۔