نیویارک میئر ممدانی نے 7 اکتوبر حملے کی مذمت کردی، غزہ جنگ کو ’جاری نسل کشی‘ قرار دے دیا

نیویارک میئر کے مطابق غزہ میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 21 ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں


ویب ڈیسک October 08, 2026

واشنگٹن: نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس روز ہونے والی ہلاکتوں اور اغوا کی کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دیا، تاہم غزہ میں اس کے بعد جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کو ’جاری نسل کشی‘ قرار دے دیا۔

زوہران ممدانی نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ 7 اکتوبر کے واقعات کو تین سال مکمل ہوگئے ہیں اور یہ دن نیویارک کے بہت سے شہریوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان کے مطابق حماس کے حملے میں 1100 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔

ممدانی نے کہا کہ وہ اس حملے میں اپنے جاننے والوں اور پڑوسیوں کے نقصان پر غم زدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم ان کے بقول 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کی تکالیف ختم نہیں ہوئیں بلکہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوا۔

نیویارک کے میئر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ غزہ میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں 21 ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ نام نہاد جنگ بندی کے بعد بھی 1400 سے زائد فلسطینی مارے جاچکے ہیں۔

ممدانی نے اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایمبولینسوں پر حملوں، رہائشی عمارتوں اور صحافیوں کو مبینہ ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے اور سرحدی گزرگاہوں پر خوراک کی امداد روکنے کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے امریکا کی اسرائیل کے لیے حمایت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان کے بقول ان جنگی کارروائیوں کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ ممدانی نے امریکی حکومت پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے تشدد میں ’’شراکت‘‘ کا الزام بھی عائد کیا۔

ممدانی نے کہا کہ 7 اکتوبر کے تین سال بعد بھی دنیا کو ایسے نظام کو مسترد کرنا چاہیے جس میں ان کے بقول قبضہ، نسل پرستی اور جنگی جرائم کے لیے جواب دہی نہ ہو۔