کبھی کسی اپنے کا خط ہاتھ میں آنا، لفافہ کھولنے سے پہلے ہی دل میں کئی احساسات جگا دیتا تھا۔۔۔ دور بیٹھے اپنوں کی خیریت ہو یا کسی خاص شخص کا پیغام، ڈاک صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ جذبات اور یادوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔
دنیا بھر میں آج ورلڈ پوسٹ ڈے منایا جا رہا ہے۔ یہ دن 9 اکتوبر 1874 کو یونیورسل پوسٹل یونین کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے، جبکہ 1969 میں اسے باقاعدہ ورلڈ پوسٹ ڈے قرار دیا گیا۔ اس دن کا مقصد لوگوں کی روزمرہ زندگی اور معاشی و سماجی رابطوں میں پوسٹل سروسز کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔
لیکن وقت کے ساتھ خط لکھنے اور ڈاک کے ذریعے پیغام بھیجنے کا رواج خاصا کم ہوگیا ہے۔ موبائل فون، واٹس ایپ، ای میل اور سوشل میڈیا نے رابطے کو چند سیکنڈز تک محدود کردیا ہے۔ اب پیغام پہنچنے کے لیے نہ لفافے کی ضرورت ہے، نہ ڈاک ٹکٹ کی اور نہ ہی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہی تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا روایتی ڈاک کی مقبولیت میں کمی کی بڑی وجہ بنی ہے۔
تاہم ڈاک کا کردار مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی نوعیت بدل رہی ہے۔ دنیا بھر میں پوسٹل نیٹ ورک اب خطوط کے ساتھ پارسل، ای کامرس، لاجسٹکس، مالیاتی اور دیگر ڈیجیٹل سہولیات کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پاکستان میں بھی پاکستان پوسٹ کے لیے یہی تبدیلی ایک بڑے چیلنج اور موقع کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں تک رسائی رکھنے والا وسیع پوسٹل نیٹ ورک آج بھی اس ادارے کی بڑی طاقت ہے۔ پنشن، سرکاری خطوط، سماجی امداد اور ضروری اشیا کی ترسیل سمیت کئی خدمات میں ڈاک کا نظام اب بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان پوسٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ادارہ کاغذی کارروائی کم کرنے، ڈیجیٹل نظام، ڈیلیوری ٹریکنگ اور لاجسٹکس کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی ای کامرس مارکیٹ کو بھی اپنے لیے ایک اہم موقع سمجھتا ہے۔
دوسری طرف نجی کوریئر کمپنیوں سے مقابلہ، ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلی، مالی دباؤ اور صارفین کی بدلتی توقعات پاکستان پوسٹ کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ 2025 میں سینیٹ کی ایک کمیٹی نے بھی ادارے کی آمدن، اخراجات اور نجی کوریئر سروسز کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے فرق پر تشویش ظاہر کی تھی۔
یعنی آج سوال یہ نہیں کہ ڈاک کا دور ختم ہوگیا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا پوسٹل نظام خود کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیل کر سکتا ہے؟ شاید خط کی جگہ ڈیجیٹل پیغام نے لے لی ہو، لیکن لوگوں اور کاروبار کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت آج بھی اتنی ہی اہم ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔