پشاور:
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صوبائی ترجمان شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کیخلاف متفقہ پالیسی پر عمل کیلیے تیار ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں شوکت یوسفزئی نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ صوابی پہنچنے کے آخری مراحل میں داخل ہورہا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کی قیادت میں قافلے 11 اکتوبر کو صوابی پہنچیں گے، جبکہ عمران خان تک رسائی سمیت تمام جائز مطالبات تسلیم ہونے تک مارچ جاری رہے گا۔
لانگ مارچ کے حوالے سے جاری پیغام میں شوکت یوسف زئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں غیر اعلانیہ گورنر راج کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی کی اپنے ہی صوبے سے گرفتاریوں پر شدید تشویش ہے۔ صوبائی معاملات میں گورنر کی مداخلت بھی قابل قبول نہیں۔
شوکت یوسف زئی نے کہا کہ گورنر نے صوبائی معاملات میں مداخلت کرکے اپنے عہد کی خلاف ورزی کی ہے۔ گورنر راج نافذ کرنے کے لیے سب سے زیادہ سرگرمی پیپلز پارٹی دکھا رہی ہے، جو کبھی جمہوری جماعت نہیں رہی۔ گورنر راج کے مشورے دینے والوں کی اپنی نظریں اقتدار پر لگی ہوئی ہیں۔
پی ٹی آئی ترجمان نے وفاقی وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی مزید دھمکیاں دینا بند کی جائیں۔ صوبائی حکومت اپنے آئینی اور انتظامی معاملات میں کسی قسم کی غیر ضروری مداخلت قبول نہیں کرے گی۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان اور پولیس کے وسائل سے متعلق شوکت یوسف زئی نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں پولیس کے لیے 191 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو صوبائی بجٹ کے مجموعی حجم کا 7.8 فیصد بنتے ہیں، جبکہ پنجاب میں پولیس کے لیے بجٹ کا صرف 3.9 فیصد مختص کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2013 میں خیبر پختونخوا پولیس کا بجٹ 23 ارب 50 کروڑ روپے تھا، تاہم اب یہ بڑھ کر 191 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ مالی مشکلات کے باوجود پولیس میں 3 ہزار 550 نئی اسامیوں کی منظوری دی گئی، جبکہ گزشتہ سال مختص بجٹ کے علاوہ پولیس کو مزید 35 ارب روپے بھی فراہم کیے گئے تھے۔
شوکت یوسف زئی نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں، بلکہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متفقہ پالیسی تشکیل دیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی صدر جنید اکبر خان پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف متفقہ پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ خیبر پختونخوا حکومت بھی ایسی کسی مشترکہ حکمت عملی پر مکمل عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔
پی ٹی آئی ترجمان نے مزید کہا کہ اگر وفاقی حکومت کو تحریک انصاف کے ساتھ بیٹھنے میں کوئی مسئلہ ہے تو وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ پالیسی مرتب کرلے۔ صوبائی حکومت اس متفقہ پالیسی پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرے گی۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ممکنہ ثالثی سے متعلق سوال پر شوکت یوسف زئی نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی مکمل تفصیلات کا علم نہیں، تاہم انہوں نے سنا ہے کہ ثالثی کے لیے مولانا صاحب سے رابطہ کیا گیا ہے۔ اگر مولانا صاحب اس مقصد کے لیے آگے آتے ہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
ملکی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی نے عالمی بینک کی غربت سے متعلق رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں غربت کی شرح شام اور افغانستان کی مجموعی غربت سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔
شوکت یوسف زئی نے کہا کہ عالمی بینک کی رپورٹ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے اور ملک میں معاشی ترقی سے متعلق حکومتی دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت سے متعلق سامنے آنے والی صورتحال حکومتی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔