پشاور:
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں جرأت ہے اور غیرت ہے تو صوابی کراس کرکے دکھائے، صوابی کا نام سنتے ہی ان کی ٹانگیں کانپ جاتی ہیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ یہ صوابی کی طرف منہ کرکے دکھایں انہیں لگ پتا جائے گا، صوابی ان کے لیے پل صراط ہے، جب ان کا منہ صوابی کی طرف ہوتا ہے تو یہ یو ٹرن لے کر دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ صوبہ جل رہا ہے اور یہ عیاشیاں کررہے ہیں، یہ پولیس کو اپنے کنٹرول میں لانا چاہتے ہیں ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے لانگ مارچ کو لکی ایرانی سرکس میں تبدیل کردیا ہے۔
مارچ کے حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مارچ کے شرکاء قانون کی پابندی کریں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں، مارچ کے دوران اسلحے اور منشیات کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، سیاسی سرگرمیوں کے نام پر قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، سیاسی قیادت کو اپنے کارکنوں کی سلامتی اور عوام کو درپیش مشکلات کا خیال رکھنا چاہیے اگر 9 مئی جیسے واقعات دہرانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔
گورنر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس ملک کے آئین کی خالق جماعت ہے، پی ٹی آئی ہمیں سیاست نہ سکھائے، صوبے کے نااہل حکمرانوں کو ہم سکھائیں گے کہ صوبہ کیسا چلایا جاتا ہے، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی نے مارچ کے بجائے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا۔ پاکستان کی سلامتی اور قومی یکجہتی ہر سیاسی مفاد سے بالاتر ہے۔ تمام سیاسی قوتوں کو ملک کے استحکام اور امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
گورنر نے کہا کہ حکومت اپنے وزراء کا تحفظ نہیں کرسکتی تو وہ عوام اور صوبہ کے حقوقو وسائل کا تحفظ کیسے کرے گی، وزیراعلیٰ میں تھوڑی سی بھی اخلاقی جرأت ہو تو وہ فوری طور پر استعفی دیں۔
گورنر کے آئینی اختیارات سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت گورنر کے آئینی اختیارات اور ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے آئین کا مطالعہ کرے، گورنر کا منصب آئینی ذمہ داریوں کا تقاضا کرتا ہے اور جب بھی ضرورت ہوئی، چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو بلا کر صوبے کے مسائل پر بات کروں گا، اگر کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے، گورنر کے اختیارات پر اعتراض کرنے والوں کو آئین اور متعلقہ قوانین کا دوبارہ مطالعہ کرنا چاہیے۔
گورنر راج کے حوالے سے سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب بھی صدرِ مملکت اور وزیراعظم مناسب سمجھیں گے تو گورنر راج بھی نافذ ہو جائے گا۔