چرچ آف پاکستان اورمختلف مسیحی رہنماؤں نے مجوزہ سندھ مسیحی عائلی قوانین بل 2026 اور خیبرپختونخوا مسیحی عائلی قوانین بل 2026 کو اس کی موجودہ شکل میں مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بل کو فوری طور پر مؤخر کیا جائے اورجامع مشاورت کے بغیر آگے نہ بڑھایا جائے۔
یہ مطالبہ جمعرات کو کراچی پریس کلب میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ پریس کانفرنس کی قیادت چرچ آف پاکستان کے ماڈریٹر/ صدر اور ڈائیوسیس آف رائیونڈ کے بشپ، آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل نے کی۔
ایک مشترکہ اجلاس میں بل اور اس کے مسیحی شادی، خاندانی زندگی، مذہبی آزادی اور کلیسیاؤں کی خود مختاری پر ممکنہ اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ڈاکٹر آزاد مارشل نے کہا کہ کہ مسیحی شادی ایکٹ 1872 اور طلاق ایکٹ 1869 میں مناسب ترامیم کی اشد ضرورت ہے، لیکن درست راستہ یہ ہے کہ بامعنی مشاورت کے ذریعے موجودہ قوانین میں ترمیم اور بہتری لائی جائے، نہ کہ کلیسیاؤں کی رضامندی کے بغیر نیا اور یکجا مسیحی عائلی قانون نافذ کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا گیا کہ چرچ آف پاکستان نے سندھ کے مذکورہ بل کی موجودہ شکل میں نہ تو توثیق کی ہے اور نہ ہی منظوری دی ہے۔ مشاورتی عمل میں چرچ کی شرکت کو مجوزہ قانون کی قبولیت یا منظوری تصور نہ کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مجوزہ قوانین کے آئینی مضمرات، مسیحیوں کے مروجہ شخصی قوانین پر اثرات اور مذہبی آزادی، فرقہ وارانہ شناخت اور کلیسائی خود مختاری کے تحفظ کے لیے مناسب ضمانتوں کی عدم موجودگی پر انہیں سنجیدہ تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری اصلاحات قانونی طور پر مستحکم، آئین پاکستان کے مطابق، بائبل کی تعلیمات اور روحانی و نگہداشتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہئیں۔
بشب نے کہا کہ چرچ آف پاکستان کا مؤقف ہے کہ شادی اور طلاق کے قوانین الگ الگ قانون سازی کے تحت برقرار رہنے چاہئیں کیونکہ مسیحی شادی محض ایک شہری معاہدہ نہیں بلکہ بائبل کے ایمان اور کلیسائی روایات میں جڑا ہوا ایک مقدس عہد ہے۔
انہوں نے حکومت سندھ اور سندھ اسمبلی سے مطالبہ کیا گیا کہ بل کو مؤخر کر کے مزید قانون سازی سے قبل اس کا قانونی، مذہبی اور آئینی جائزہ لیا جائے اور تمام بڑے مسیحی فرقوں، تسلیم شدہ کلیسائی قیادت، مسیحی قانونی ماہرین، ماہرین الہیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو اپنی سفارشات پیش کرنے کا بامعنی موقع فراہم کیا جائے۔