امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نومبر میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آج دوپہر کے بعد برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت تقریباً ایک ڈالر 10 سینٹ یعنی 1.1 فیصد کمی کے بعد 103.18 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اسی طرح عالمی معیار کا امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 49 سینٹ، یعنی 0.5 فیصد گر کر 91 ڈالر فی بیرل پر آگئی جبکہ گزشتہ روز ہی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مڈٹرم الیکشن سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل خام تیل کی ترسیل پرانی سطح پر بحال ہوگئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ نے بھی انتخابی ریلی سے خطاب میں تیل قیمتوں میں اضافے کو مصنوعی اور تیل کمپنیوں کے زیادہ منافع کمانے کی لالچ کو ٹھہرایا تھا تاہم ماہرین اس کی وجہ ریفائنری میں بڑھتے ہوئے اخراجات کو قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ مارچ سے ایران نے اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جہاں ے دنیا کو تیل و گیس کی بڑی مقدار ترسیل کی جاتی ہے جب کہ حوثیوں نے باب المندب میں سعودی بحریہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔