کشمیر کی تاریخ نہ صرف سیاسی تنازعات بلکہ بے گناہ شہریوں کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے جو آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
10 اکتوبر 1992 کو شوپیاں کے گاؤں چک سیدا پورہ میں بھارتی فوج نے تلاشی کی آڑ میں گھروں میں داخل ہوکر 9 خواتین کی عصمت دری کی۔
قابض بھارتی فوج کی درندگی کا شکار ہونے والوں میں 11 سالہ معصوم بچی سے لے کر 60 سالہ بزرگ خاتون تک شامل تھیں، شوپیاں کے ڈسٹرکٹ اسپتال میں طبی معائنے کے دوران خواتین کے ساتھ زیادتی کے قوی شواہد سامنے آئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ملزمان کو سزادینے کے لیے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا جس پربھارت نے روایتی ہٹ دھرمی دکھائی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر چک سیدا پورہ کا یہ واقعہ عالمی برادری کے لیے یاد دہانی ہے کہ کشمیری قوم حقِ خود ارادیت کیلئے بھاری قیمت ادا کررہی ہے۔