پنکی کا بھائی اشتہاری قرار، دستِ راست خاتون کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

انمول عرف پنکی کا بھائی محمد ناصر ضمانت حاصل کرنے کے بعد مفرور ہوگیا تھا


کورٹ رپورٹر October 10, 2026
فوٹو اسکرین گریپ

کراچی:

انسداد منشیات عدالت نے منشیات کی سپلائی کے مقدمے میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے بھائی محمد ناصر کو اشتہاری قرار دے دیا، جبکہ شریک ملزمہ نسیم بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو نسیم بی بی کی گرفتاری یقینی بنانے اور آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

انسداد منشیات عدالت میں انمول عرف پنکی، اس کے بھائی ناصر اور دیگر ملزمان کے خلاف منشیات کی سپلائی کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جیل حکام نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا۔ دوران سماعت شریک ملزمہ نسیم بی بی کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ انمول عرف پنکی کا بھائی محمد ناصر ضمانت حاصل کرنے کے بعد مفرور ہوگیا تھا، جبکہ اینٹی نارکوٹکس فورس تاحال اسے گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

واضح رہے کہ ناصر پر ملزمہ انمول عرف پنکی کا منشیات کا نیٹ ورک چلانے کا الزام ہے۔ عدالت نے ملزم ناصر کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف دفعہ 87 اور 88 کے تحت کارروائی کا حکم دیا۔

دوران سماعت عدالت نے انمول عرف پنکی کی دست راست قرار دی جانے والی شریک ملزمہ نسیم بی بی کی عدم گرفتاری کا بھی نوٹس لیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ نسیم بی بی کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر ہر صورت عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس سلسلے میں ملزمہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے۔

پراسیکیوشن کے مطابق مقدمے میں انمول عرف پنکی، اس کا بھائی محمد ناصر اور نسیم بی بی نامزد ہیں، جن پر منشیات فروخت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف اینٹی نارکوٹکس فورس نے 2019 میں مقدمہ درج کیا تھا۔

عدالت نے ملزم ناصر کے خلاف اشتہاری کارروائی اور نسیم بی بی کی گرفتاری سے متعلق احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔